کھوکھلی دانشوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری والدہ کراچی میں رہتی ہیں اور ہمیشہ سے گھر کا سودا سلف خود لاتی ہیں۔تین ماہ پہلے وہ محلے کے یوٹیلٹی سٹور سے نکل رہی تھیں کہ دو نوجوان انکے دائیں بائیں آگئے۔ایک نے ریوالور کمر سے لگا دیا۔ ’آنٹی چوڑیاں اتار دیں۔‘ میری والدہ نے سونے کے دو کڑے اتار کر ان کے حوالے کردیے۔اور دونوں شکریہ ادا کرتے ہوئے بیسیوں لوگوں کے سامنے آرام سے پیدل چلتے بنے۔ یہ بات والدہ نے مجھے دو روز پہلے بتائی۔ میں نے پوچھا آپ نے رپورٹ درج کرائی۔ کہنے لگیں کیا تو مجھے پاگل سمجھتا ہے۔ صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں کمانڈو ایکشن کے بعد جو کئی ڈنکے پیٹے ان میں سے ایک پولیس اصلاحات اور عام آدمی کو تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا ڈنکا بھی تھا۔ آج نو برس بعد میں کمپیوٹر سکرین پر انٹرنیٹ کے اوراق پلٹ رھا ہوں۔ بائیس جون دو ہزار چھ۔جسٹس افتخار چوہدری، عبدالحمید ڈوگر اور سعید اشہد پر مشتمل بنچ نے پولیس کو ایسے تمام عقوبت خانے بند کرنے کا حکم دیا ہے جن میں بااثر لوگوں کے کہنے پر ملزموں یا بے گناہوں کو اذیت دی جاتی ہے۔
چار ستمبر دو ہزار سات۔سپریم کورٹ نے تمام لاپتہ افراد کی رھائی کا حکم دے دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطاً پچاس افراد پولیس کی تحویل میں اور اوسطاً دو سو سے زائد مشکوک مقابلوں میں مارے جاتے ہیں۔ مارچ دو ہزار آٹھ۔مظفر گڑھ میں بااثر افراد نے ایک خاندان کو گھر سے نکال کر قبضہ کرلیا۔اس خاندان کا اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ۔ سمندری میں تین بچوں کے باپ نے بے روزگاری اور طعنوں سے تنگ آ کر خودکشی کرلی۔ کراچی میں ایک قرض دہندہ دل کے دورے سے اس وقت ہلاک ہوگیا جب ایک نجی بینک کے غنڈوں نے اسکی محلے والوں کے سامنے بے عزتی کردی۔ کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی میں فیکٹری مزدوروں نے اپنے ایک ساتھی جگدیش کو مار مار کر ہلاک کردیا۔پولیس تماشا دیکھتی رہی۔ منو بھیل نامی شخص دس برس سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے ہڑتال کیے بیٹھا ہے۔ایک وڈیرے کے ہاتھوں اغوا ہونے والا اس کا خاندان اب تک بازیاب نہ ہوسکا۔ این آر او کے تحت کرپشن کے تمام مقدمات واپس لے لئے گئے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق سابق نگراں وزیرِ اعظم محمد میاں سومرو کے عمرے کے سبب پی آئی اے کو دو لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وزارت ِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کی ستر فیصد سے زائد آبادی دو ڈالر روزانہ سے کم پر زندگی گذار رہی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس وقت جیلوں میں گنجائش سے ایک سو چودہ فیصد زائد قیدی موجود ہیں جن میں سے ساٹھ فیصد کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ اس پس منظر میں جب کراچی میں ایک ہجوم دو دن میں پانچ مشتبہ ڈاکو زندہ جلا دیتا ہے تو اسے بھی معمول کی خبر سمجھنا چاہئیے۔ حساب سیدھا ہے۔ بھوک، ننگ، بے روزگاری اور محرومی ڈاکو بناتی ہے اور عدم تحفظ اور ناانصافی ان ڈاکوؤں کو زندہ جلوا دیتی ہے۔ ایسے میں معاشرے کے مہذب یا غیر مہذب ہونے کی بحث ایک کھوکھلی دانشوری نہیں تو اور کیا ہے !!!! |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||