بدنیتی کو تین طلاق ! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی پاکستان نہ سہی لیکن انیس سو اکہتر میں مغربی پاکستان کے تمام ادارے، وسائل اور آبادی کا ایک بڑا حصہ آپ کے ساتھ تھا یا آپ کے کنٹرول میں تھا۔ آپ پر پوری طرح واضح تھا کہ دشمن کون ہے اور کتنا طاقتور ہے۔ مسئلہ اگر تھا تو صرف یہ کہ اس دشمن سے کیسے نمٹا جائے۔ لیکن ٹارگٹ واضح ہونے کے باوجود بدنیتی کے سبب آپ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج دو ہزار آٹھ میں نمٹنے کی بات تو ایک طرف رہی یہی طے نہیں ہو پا رہا کہ دشمن اصل میں ہے کون۔ وہ اندر ہے کہ باہر ۔ کب وار کرےگا اور کیسے کرے گا۔ ملک کس راستے پر ہے اور راستہ کہاں جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت کون جانتا ہے کہ پی این ایس اسلام آباد کہاں لنگر ڈالےگا۔اس کا ناخدا بوائلر روم میں ہے یا انجن روم میں یا پھر اپنے کیبن میں ہے یا عرشے پر کسی کونے میں آفتابی غسل لے رھا ہے۔ ایسا کیوں لگ رھا ہے جیسے معیشت وہ طیارہ ہے جو کڑکتے بادلوں میں پرواز کررھا ہے اور کپتان طیارے کو آٹو پائلٹ پر لگا کر اپنی نیند پوری کررھا ہے۔ یا امن و امان وہ آوارہ لڑکا ہے جس کے چال چلن کی اسکا باپ بھی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ یا قبائیلی علاقہ وہ ادھ موا گھوڑا ہے جس کی صرف آنکھوں کی پتلیاں حرکت کررہی ہیں۔سفاک گدھ اسکی پسلیوں سے گوشت نوچ رہے ہیں۔اور گھوڑے کا رکھوالا ہاتھ میں صرف ایک ڈنڈا پکڑ کر ہش ہش کررھا ہے کہ شائید گدھ ڈر جائیں۔ بلوچستان کسی چوک پر کھڑا وہ بچہ ہے جس کے والدین اسے چھوڑ کر شاپنگ میں مصروف ہیں۔
کراچی وہ کیک ہے جسے کھانے والوں نے آدھا آدھا بانٹ لیا ہے۔ اندرونِ سندھ وہ چٹیل میدان ہے جس میں مالکان نے اپنے اپنے مرغے لڑنے کے لئے ایک دوسرے پر چھوڑ دئیے ہیں۔ کشمیر اور شمالی علاقہ وہ چراگاہ ہے جس میں گڈریے کو بس یہ فکر ہے کہ بھیڑ بکریاں چرتے چرتے کہیں حفاظتی باڑھ کو منہ نہ مارلیں۔ پنجاب وہ بیٹا ہے جس کا ایک ہاتھ دوسری شادی کرنے والا باپ کھینچ رھا ہے اور ایک ٹانگ نئی ماں نے پکڑ رکھی ہے۔ اور امریکہ وہ سود خور ہے جو قسط کے عوض اب گھر کی چاردیواری کی اینٹیں لے جانے کے لئے ٹریکٹر ٹرالی لے آیا ہے اور مالکِ مکان زیرِ لب بڑبڑا رھا ہے ” ایک موقع اور دے دیں حضور ‘‘۔ جبکہ عرب سرمایہ کار گھر کے فرنیچر ، برتن ، برقی سامان اور پائپ کی بولی لگانے والوں میں شامل ہے۔اور بھارت دو انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹی بجاتے ہوئے اس نوٹنکی سے لطف اندوز ہورھا ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے اب صرف دو ہی طریقے ہیں۔یا تو وقت کے دھارے میں بہتے رہیں وہ جہاں بھی لے جائے ۔ یا پھر اپنے دل اور دماغ کو سامنے بٹھا کر کچھ بنیادی فیصلے کر لیں اور بدنیتی کو تین طلاق دے کر روانہ کردیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||