BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 July, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہر کو سیلاب لے گیا

News image
 انیس سو اٹھانوے میں مکران میں ڈیڑھ ہزار افراد پہاڑی سیلابوں میں بہہ گئے اور اس کے اگلے برس ٹھٹھہ اور بدین کو سمندری طوفان نے کنگال کردیا لیکن تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی ایسا مربوط امدادی نظام نہ بنایا جاسکا جو تازہ ترین تباہی کے نقصانات گزشتہ تباہی کے مقابلے میں کم کردیتا
موسلا دھار بارش روکنا ہمارے بس میں نہیں لیکن اس بارش سے بچاؤ کا چھپر بنانا تو ہمارے بس میں ہے۔

اپنے ہی کنارے توڑنے والے غصیلے دریاؤں کا غیض وغضب روکنا ہماری طاقت سے باہر ہے لیکن بند بنانا اور ان کی مسلسل دیکھ بھال کرنا تو ہماری ذمہ داری ہے۔ زلزلے کے آگے ہم سب لاچار ہیں۔ لیکن اس کے نقصانات کو کم سے کم رکھنے کے لیے فنِ تعمیر اور طرزِ زندگی میں ضروری تبدیلی تو ہمارا ہی کام ہے نا!

سمندری طوفان کے سامنے بھلا کون ٹھہر سکتا ہے۔ مگر اس طوفان کی کئی روز قبل اطلاع دینے والے نظام اور اس اطلاع کی ہر عام آدمی تک بروقت ترسیل کا نظام قائم کرنا تو ہمارا ہی فرض ہے نا!

بالفرض اگر یہ سب کرنا ہمیں محال لگتا ہے تو ایک ایسے خودمختار ادارے کی تشکیل میں آخر کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں جو قدرتی آفات سے آنے والی تباہی کے اثرات سے نمٹنے والی لازمی سرکاری تنظیموں اور نجی شعبے کے امدادی وسائل کو بروقت یکجا کرسکے۔

قدرت نے کبھی منہ پر تھپڑ لگا کے تو کبھی بال کھینچ کر ایک مرتبہ نہیں سینکڑوں دفعہ ہمیں اپنی انسانی ذمہ داریاں یاد دلانے کی کوشش کی لیکن ہم ہیں کہ ہر مرتبہ ساری ذمہ داری خدا پر ڈال کے ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

پچھلے ساٹھ برس کے دوران کوئی عشرہ ایسا نہیں گزرا جب تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد نہ مرے ہوں۔ لاکھوں بے گھر نہ ہوئے ہوں۔ بے شمار کھڑی فصلیں تباہ نہ ہوئی ہوں اور اربوں روپے کا اقتصادی نقصان نہ ہوا ہو لیکن پاکستانی حکومتیں اس دوران میں ایک کاغذی فلڈ وارننگ سسٹم سے زیادہ کچھ نہ بنا سکیں۔

News image
 کاش کوئی حکومت ایسی بھی آئے جو قدرتی آفات کو بھی طالبان، وزیرستانی پٹھانوں، کوہلو اور ڈیرہ بگتی کے بلوچوں کے خطرے کے برابر سمجھ کر ان آفات سے ترجیحی طور پر نمٹنے میں مخلص ہو

انیس سو اٹھانوے میں مکران میں ڈیڑھ ہزار افراد پہاڑی سیلابوں میں بہہ گئے اور اس کے اگلے برس ٹھٹھہ اور بدین کو سمندری طوفان نے کنگال کردیا لیکن تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود کوئی ایسا مربوط امدادی نظام نہ بنایا جاسکا جو تازہ ترین تباہی کے نقصانات گزشتہ تباہی کے مقابلے میں کم کردیتا۔

انیس سو چوہتر میں شمالی علاقہ جات اور پھر دو ہزار پانچ میں کشمیر اور صوبہ سرحد میں تباہ کن زلزلے آئے۔ حکومتوں نے دونوں مرتبہ احتیاطی تدابیر وضع کرنے اور بلڈنگ کوڈ کے سختی سے نفاذ کا وعدہ کیا۔ لیکن میڈیا نے نہ سن چوہتر میں اور نہ ہی سن دو ہزار پانچ کے بعد سرکاری دعوؤں اور عملی کام میں فرق کو جانچنے کی سنجیدہ کوشش کی۔

کاش کوئی حکومت ایسی بھی آئے جو قدرتی آفات کو بھی طالبان، وزیرستانی پٹھانوں اور کوہلو اور ڈیرہ بگتی کے بلوچوں کے خطرے کے برابر سمجھ کر ان آفات سے ترجیحی طور پر نمٹنے میں مخلص ہو۔

کن نیندوں سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔

بات سے باتکہاں چلے گئے
دکھی لوگوں کی مدد کرنے والے کہاں کھو گئے
یہ بلوچ!
آخر یہ بلوچ سمجھتے کیوں نہیں
امریکہ اور شیر
امریکہ اور ناقابلِ اشاعت لطیفے والے شیر میں فرق؟
بگٹی کی ہلاکت
بلوچستان کا 33 فیصد مسئلہ حل: وسعت اللہ
اسی بارے میں
ایوب خان کی ڈائری
29 April, 2007 | قلم اور کالم
آفریں آفریں
06 May, 2007 | قلم اور کالم
’قصور جسٹس چودھری کا ہے‘
13 May, 2007 | قلم اور کالم
صدر، ماسی اور صحبت علی
10 June, 2007 | قلم اور کالم
نیگروپونٹے کون؟
17 June, 2007 | قلم اور کالم
’چاچا وردی لاہندا کیوں نئیں‘
03 June, 2007 | قلم اور کالم
’پاگل‘، ’بے وقوف‘، ’بکواس‘
20 May, 2007 | قلم اور کالم
اپنے کیے کا کوئی علاج
15 April, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد