BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2008, 01:48 GMT 06:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز

مشرف سے نجات پر ملک میں یومِ نجات منائیں: اعتزاز احسن
وکیل رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پندرہ ستمبر تک اعلی عدلیہ کے معزول ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو ملک بھر کے کلیدی مقامات پر دھرنا دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معزول جج پندرہ ستمبر سے پہلے بحال ہو جائیں گے۔

جمعہ کے روز اسلام کے جڑواں شہر راولپینڈی میں وکلاء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد راولپینڈی ہائی کورٹ بار میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے بتایا کہ اعلان اسلام آباد کے مطابق حکمران اتحاد صدر کے مواخذے کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدلیہ کے تمام ججوں کو تین دن کے اندر بحال کرنے کا پابند ہے ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر صدر مشرف کے مواخذے میں تاخیر ہوتی ہے اور پندرہ ستمبر تک ججوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو انیس جولائی دو ہزار آٹھ کو آل پاکستان وکلاء کانفرس میں کیے جانے والے فیصلے کے مطابق ملک گیر دھرنے دیے جائیں گے اور دھرنے کو آہستہ آہستہ سول نا فرمانی کی تحریک میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اعلان اسلام آباد کا معاملہ بھی اعلان بھوربن جیسا ہوگا لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ حکمران اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمام ججوں کو بحال کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اعلان اسلام آباد کے بعد اب آئینی پیکج کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اور معزول ججوں کو اعلان بھوربن کے تحت انتظامی حکم نامہ کے ذریعے بحال کیا جائے۔ انہوں نے وکلاء کی طرف سے عوام سے درخواست کی کہ جس دن صدر مشرف کے مواخذے کی قرارداد منظور ہوتی ہے یا وہ مستعفی ہوتے ہیں تو ملک بھر میں یوم نجات اور جشن منایا جائے۔

اعتزاز احسن نے صدر کے مواخذے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی عدالت کو یہ آئینی یا قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مواخذے کے خلاف کوئی حکم امتناعی جاری کرے اور اگر ایسا اقدام اٹھایا جاتا تو اس کی بھر پور مذمت کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے وکلاء کو یہ خدشہ تھا کہ صدر کے مواخذے میں تاخیر کی جائے گی لیکن چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ان کے خلاف قرداد منظور ہونے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ صدر کا مواخذہ جلد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کا احتساب کیاجائے۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نےنو اکتوبر سے بارہ اکتوبر تک انٹرنیشنل کانفرس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس کا افتتاح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرس میں ایک بہت بڑی تعداد میں وکلاء اور جج شرکت کریں گے۔

ججوں کی بحالی کے لۓ وکلاء تنظیموں کی جانب سے انیس جولائی کو حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی جس کے بعد وکلاء کی ایکشن کیمٹی کا اجلاس جمعہ کو ہوا جس میں جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، رشید اے رضوی سمیت دیگر وکلاء رہنماوں نے شرکت کی۔

واضع رہےکہ اس پہلے وکلاء رہنما حکمران اتحاد سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ صدر مشرف کے مواخذے سے پہلے معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد