انٹرنیشنل لائیرز کنونشن کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور وکیل رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کے معاملے کو بین القوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی میزبانی میں وکلاء کا ایک انٹرنیشنل لائیرز کنونشن منعقد کیا جائےگا۔ اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت پورے یورپ سے وکلاء اور جج شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کنونشن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تین نومبر دو ہزار سات کو ایمرجسنی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے اصل ججز کو بھی دعوت دی جائے گی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ کنونشن کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی ہے اور اس لیے دوسرے ممالک کے وکلاء کی بار ایسوسی ایشن اور ججوں سے مشاورت کے بعد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک سے کوئی بھی دستبردار نہیں ہو رہا ہے اور لانگ مارچ ان لوگوں کے لیے ایک چھوٹی سے ٹیسٹ شارٹ تھی جو معزول ججوں کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ کہ اس بار تو وکلاء اپنے رہنماؤں کے کہنے پر آنسو بہاتے ہوئے پر امن طور پر واپس چلے گئے لیکن اگلی بار ان کو سمجھانا مشکل ہو جائے گا اور یہ بات حکومت کو بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ عناصر جو معزول ججوں کی بحالی نہیں چاہتے وہ آئندہ کے لانگ مارچ کو آسان نہ لیں بلکہ اس سے گھبرائیں اور سبق حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو آئندہ بھی لانگ مارچ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تو لانگ مارچ میں صرف وکیل رہنما شامل تھے معزول ججوں نے شرکت نہیں کی تھی۔ ’لیکن اگر اگلی بار معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت باقی ججز بھی لانگ مارچ میں شامل ہوں گے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد اکھٹی ہو جائے گی جن کو سنبھالنا ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا۔‘ اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم پہ پہلے یہ الزام لگایا گیا کہ ’وکلاء نے لانگ مارچ شروع کر دیا ہے، اب یہ ملک میں مارشل لاء لگوا کے واپس جائیں گے اور اب کئی معزز کالم نگار اورلکھنے والے کہتے ہیں کہ لانگ مارچ سے کچھ حاصل ہی نہیں ہوا۔‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے سے یہ کہہ رکھا تھا کہ لانگ مارچ پر امن ہوگا اور اس لیے ہم نے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو کہا تھا کہ لانگ مارچ میں بھر پور شرکت کریں۔ ’عوام کی شمولیت اور لانگ مارچ کا پر امن رہنا ہی ہماری کامیابی ہے جس میں ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔‘ اعتزاز احسن نے کہا کہ لانگ مارچ میں کچھ لوگ شامل تھے جنہوں نے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کر رکھی تھی کہ اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی اور کوئی پر تشدد کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سٹیج پر خطاب کے دوران چار پانی کی بوتلیں بھی اس لیے پھینکی گئی تھیں کہ وہ دھرنے کی بات کیوں نہیں کرتے ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ اسی مجمع میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد تیاری کر کے آئی تھی کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے پر امن طور پر دھرنا دے گی جس کی وہ قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’میں دھرنے کا اعلان کرنے کا مجاز نہیں تھا کیونکہ پاکستان بار کونسل سمیت کسی بھی وکلاء باڈی نے دھرنا دینے کے بارے طے نہیں کیا تھا۔‘ اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک میں تیزی لانے کی لیے باقی تیار کردہ تجاویز کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جا رہا بلکہ نیشنل لائیرز ایکشن کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا جس کا اعلان کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ واضع رہے کہ پاکستان میں معزول ججوں کی بحالی کے لیے پورے ملک سے وکلاء کا لانگ مارچ چار دنوں تک جاری رہنے کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے چودہ جون کی صبح بغیر کسی آئندہ کے لائحہ عمل کے اعلان کے ختم ہو گیا تھا۔ جس پر وکلاء سمیت مختلف حلقوں نے لانگ مارچ کے سرکردہ رہنما اعتزاز احسن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ |
اسی بارے میں ’اس سے زیادہ ہم کیا کر سکتے ہیں‘14 June, 2008 | پاکستان کیا پھانسیاں صرف سیاستدانوں کے لیے: نواز13 June, 2008 | پاکستان گرم موسم اور آزاد عدلیہ کے شیدائی 13 June, 2008 | پاکستان گجرات: پی پی پی کارکنوں کی شرکت12 June, 2008 | پاکستان وکلاء سے معاہدہ: شاہراہِ دستور بند12 June, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ‘: نمبروں کا کھیل13 June, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||