BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 June, 2008, 03:16 GMT 08:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کو امریکی حمایت بڑی رکاوٹ‘
اعتزاز احسن(فائل فوٹو)
’جج قید تھے ان کے بال بچے گھروں میں بند تھے لیکن امریکہ سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی‘
پاکستان میں ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء تحریک کے سرخیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے ’دہشت گردی کے خلاف‘ امریکہ کی جنگ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک پاکستان جیسے ملکوں میں عدلیہ کے ذریعے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری یقینی نہیں ہوجاتی۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے بتایا کہ اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں ججوں کی بحالی میں ہر مرتبہ اور ہر اہم موڑ پر جنرل مشرف کے لیے امریکی حمایت سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اعتزاز احسن نے یہ بات گزشتہ روز واشنگٹن میں انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفتر میں ایک خطاب میں کہی۔

اعتزاز احسن نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ جو بائڈن اور سینیٹر جان کیری سے بھی ملاقات کی ہے۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ انہوں نے ان امریکی حکام کو باور کروایا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جو جنگ‘ ہے اس کا سب سے اہم ہتھیار ہے عوام کو ان کے حقوق دینا، اور اگر عوام کو حقوق ملیں گے تو وہ ’دہشتگروں‘ کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان حقوق کی ضمانت آزاد عدلیہ ہی دے سکتی ہے۔

’اگر امریکہ سمجھ لے‘
آزاد عدلیہ کی بحالی امریکہ کے حق میں ہے کیونکہ کوئی بھی جمہوریت جو عدلیہ کی بربادی یا اس کے ملبے پر کھڑی ہو وہ نہیں چل سکتی۔ اگر امریکہ ان باتوں کو سمجھ لے تو سکیورٹی کے بارے میں ان کی تشویش ختم ہو جائے گی
اعتزاز احسن
انہوں نے امریکی حکام کو بتایا کہ آزاد عدلیہ کی بحالی امریکہ کے حق میں ہے کیونکہ ان کے بقول کوئی بھی جمہوریت جو عدلیہ کی بربادی یا اس کے ملبے پر کھڑی ہو وہ نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہ اگر امریکہ ان باتوں کو سمجھ لے تو سکیورٹی کے بارے میں اس کی تشویش ختم ہو جائے گی۔

اعتزاز احسن نے ایمنسٹی کی تقریب میں ججوں کی بحالی کی تحریک کے بارے میں بتایا کہ وہ کن حالات میں شروع ہوئی اور اس کا پس منظر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سوچتا ہے کہ جن ججوں کو ہٹایا گیا وہ چپ ہو جائیں اور حکومت کو اپنا کام کرنے دیں تو یہ بہت غلط سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ کو بحال نہ کیا گیا تو اگلے چند ماہ میں پھر سے لانگ مارچ کی طرح کی تحریک شروع کی جائے گی اور اس بار اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی کہ تشدد نہیں ہوگا کیونکہ ضروری نہیں کہ معاملہ ان کے ہاتھ میں ہی رہے۔

پی پی پی کی رکنیت
 پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر تھے، ہیں اور رہیں گے لیکن ججوں کے معاملے میں وہ آصف زرداری کی رائے سے متفق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ ججوں کی بحالی میں آئین رکاوٹ ہے تو وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ سیاست کے سوا کچھ نہیں
اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ امریکہ سے مدد مانگنے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس یہ قابلیت ہے کہ وہ اپنے مسائل حل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ سے صرف اتنی توقع کرتے ہیں کہ وہ صدر مشرف کی حمایت کرنا چھوڑ دے اور ہمارے اندرونی معاملے ہمیں خود حل کرنے دے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی ججوں کی بحالی کی کوئی کوشش ہوئی چاہے وہ بینظیر بھٹو نے کی یا کسی اور نے امریکہ نے معاملات میں مداخلت کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خِارجہ نیگروپونٹے اور ان کے نائب رچرڈ باؤچر معاملے کو دبانے کے لیے فوراً پاکستان پہنچ جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جج قید تھے ان کے بال بچے گھروں میں بند تھے لیکن امریکہ سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر تھے، ہیں اور رہیں گے لیکن ججوں کے معاملے میں وہ آصف زرداری کی رائے سے متفق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ ججوں کی بحالی میں آئین رکاوٹ ہے تو وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ سیاست کے سوا کچھ نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد