BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 August, 2008, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کی رٹ ختم ہو چکی ہے: ربانی

پاکستانی فوج ملکی آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے: رضا ربانی
پاکستان پیپلز پارٹی کے دو اہم رہنماؤں نے کہا ہے کہ صدر مشرف نے اگر استعفی نہ دیا تو ان کے مواخذے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

سینیٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی کے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی رٹ اب ختم ہوچکی ہے اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں نے اپنا یہ واضح فیصلہ دیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کو اب صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔

اتوار کے روز سینیٹر امین دادا بھائی کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ایک وفاق کی علامت ہوتا ہے لیکن جب وفاق کی اکائیاں ہی پرویز مشرف کو پسند نہیں کرتیں اس لیے انہیں ان صوبائی اسمبلیوں میں صدر سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ اگر پرویز مشرف مستعفی نہیں ہوتے تو پھر آئین کے ارٹیکل 47 کے تحت اُن کا مواخذہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خلاف مواخذے کے بارے میں حکمراں اتحاد کے پاس تعداد پوری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدرپرویز مشرف کا نعرہ ’سب سے پہلے پاکستان‘ ہوتا تھا اور اب پاکستان کی عوامی عدالتوں یعنی اسمبلیوں میں اُن کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے تو صدر مشرف کا مستعفیٰ نہ ہونا ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

سینیٹر رضا ربانی کہا کہ پاکستانی فوج ملکی آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف نے بھی تین صوبائی اسمبلیوں میں ان کے حق میں بھی ووٹ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے صدر کے خلاف پیش ہونے والی تحریک میں ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات شیری رحمان نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کےلیے تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو تاریخی دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد انتقامی کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی اور صدر کا مواخذہ آئینی اور پارلیمانی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

شیری رحمان نے کہا کہ کہ صدر کے خلاف تیار کی جانے والی چارج شیٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اُسے آئندہ ایک دو روز میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کے حوالے کردیا جائے گا اور اسے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کردیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے صدر کے خلاف تیار ہونے والی چارج شیٹ کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے حوالے کردیا۔

س کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی، وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے سنیٹر اسحاق ڈار اور احسن اقبال شامل تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صدر کےمواخذے کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا جس میں صدر کے مواخذے کی تحریک پیش کی جائے گی۔ دی جائے گی۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکمراں اتحاد کا صدارتی کیمپ سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور صدر اگر چاہیں تو وہ آئین کے آرٹیکل 44 کے تحت مستعفی ہوسکتے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں فیصلہ حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت ہی کرے گی۔

اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔

ملاقات میں جو دو گھنٹے تک جاری رہی، صدر کے مواخذے کے علاوہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
صدر، مواخذہ اور افواہیں
16 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد