BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واہ فیکٹری: خودکش حملے، چالیس افراد ہلاک، درجنوں زخمی

دھماکے کے بعد کا ایک منظر (تصویر بشکریہ ’آج ٹی وی‘)
واہ فیکٹری میں دھماکے کے بعد کا ایک منظر

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پینتیس کلومیٹر دور واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مرکزی دروازوں پر دو خودکش حملے ہوئے ہے۔ پولیس کے مطابق ان خود کش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس سے زائد ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

واہ آرڈیننس فیکٹری پاکستان کی سب سے بڑی اسلحہ فیکٹری ہے جہاں لگ بھگ پچیس ہزار افراد کام کرتے ہیں۔

ریجنل پولیس افسر راولپنڈی ناصرخان درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارے سویلین تھے۔ ان میں کوئی فوجی اہلکار شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے اُس وقت ہوئے جب شفٹ تبدیل ہو رہی تھی۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے واہ فیکٹری میں ہونے والے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

فوجی ہلاک نہیں ہوئے
 ریجنل پولیس افسر راولپنڈی ناصرخان درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سارے سویلین تھے۔ ان میں کوئی فوجی اہلکار شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے اُس وقت ہوئے جب شفٹ تبدیل ہو رہی تھی۔
ناصرخان درانی نے کہا کہ باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کو ریڈ الرٹ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس فیکٹری ایک فوجی علاقہ ہے اس لیے وہاں سکیورٹی کے فرائض سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی انجام دیتےہیں۔

ناصر خان درانی کے مطابق یہ خودکش حملے اُسی نوعیت کے ہیں جس طرح دو روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا۔

واہ کینٹ کے ڈی ایس پی شہباز خان نےہلاکتوں کی تعداد چالیس بتائی ہے۔ انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد پہلے صرف تیرہ بتائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں خودکش حملے تھے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ڈی ایس پی شہباز خان کے مطابق پہلا دھماکہ مرکزی گیٹ پر جبکہ دوسرا دھماکہ گیٹ نمبر ایک پر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آوروں نے خود کو اُس وقت دھماکے سے اُڑا دیا جب ملازمین چھٹی کرکے گھروں کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں کی لاشیں بھی وہاں پر پڑی ہوئی ہیں جو قابل شناخت نہیں ہیں۔

اس فیکٹری میں پاکستانی افواج کے لیے اسلحہ تیار کیا جاتا ہے اور اس علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے۔ ان خودکش حملوں کے بعد فوجی اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو بھی جائے حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان خود کش حملوں میں زخمیوں میں سے پچیس افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
فائل فوٹوپاکستان سرِفہرست
پاکستان خودکش حملوں میں سر فہرست آگیا
خودکش حملہایک اور خودکش حملہ
ڈی آئی خان میں خودکش حملہ: تصاویر میں
مشرف دور میں خودکش حملے، بم دھماکےمشرف دور کا تحفہ
مشرف دور میں خودکش حملے، بم دھماکے
پشاور بم دھماکہ
فضائیہ کی گاڑی پر حملہ:تصاویر میں
کراچی میں حملوں کا منصوبہ ساز(فائل فوٹو)ایک نئی پریشانی
پاکستانی شدت پسندوں کے بدلتے طریقۂ کار
فوج کا بیج’ایمرجنسی اور فوج‘
نو میں سے سات خودکش حملوں میں فوج نشانہ
اسی بارے میں
حب میں کار بم دھماکہ
13 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد