BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور خودکش حملہ، تحقیقات شروع

دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نوحہ کناں ہیں

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے پولیس کی تین الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

اس دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس کی تحقیقاتی ٹیموں نے ایس پی سی آئی اے ، ایس پی آپریشنز اور ایس پی انوسٹیگیشن کی نگرانی میں مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس نے خود کش بمبار کا سر اور جسم کے دیگر حصوں کو قبضے میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی بھجوا دیا ہے۔

یہ بم دھماکہ بدھ کی شب رات کو گیارہ بجے کے بعد ملک کی آزادی کے جشن شروع ہونے سے تھوڑی دیر قبل علامہ اقبال ٹاؤن پولیس سٹیشن کے بالکل سامنے دبئی چوک پر ہوا تھا۔

دھماکا اس وقت ہوا جب شہر بھر میں نوجوان موٹر سائیکلوں، کاروں اور دوسری گاڑیوں میں سوار ہوکر ٹولیوں کی شکل میں آزادی کا جشن منانے کے لیے گشت کر رہے تھے اور شہر بھر میں چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار جشن آزادی کی رات امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تعینات تھے۔

پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پیدل آ کر مون مارکیٹ کے دبئی چوک پر جشن آزادی کے سلسلے میں سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ مون مارکیٹ میں موجود شہری بھی حملے کا شکار ہوئے۔ دھماکے کے وقت مون مارکیٹ میں اپنے کنبوں کے ساتھ کھانے پینے اور خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

جبکہ علامہ اقبال ٹاؤن کی مرکزی شاہراہ ہونے کی وجہ سے سڑک پر دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں گاڑیاں بھی رواں دوں تھیں جس کی وجہ سے عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

زخمیوں میں بھی بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے

بم دھماکہ اتنا شدید تھا اس کی زد میں آنے والے لوگوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے جبکہ چوک پر واقع مسجد اور دیگر عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے آٹھ افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور ان کا کہنا ہے پولیس کو نشانہ بنا کر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور ایک تیس سالہ نوجوان تھا جو پیدل تھا اور اس نے عقب سے آکر پولیس چوکی کے پاس اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ہلاکتوں کی تعداد پہلے چھ بتائی گئی تھی جبکہ دو زخمیوں نے بعد میں دم توڑ دیا۔

شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ جشن آزادی کے موقع پر جمعرات کو لاہور سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، لاہور میں جمعرات کو ریڈ الرٹ ہے اور تمام تقریبات کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور پولیس کے جوان اپنی جان پر کھیل کر شہریوں کی حفاظت کریں گے۔

ان کے مطابق پہلے سے لاہور میں دہشتگردی کے خطرات موجود تھے اور انہیں ایسی اطلاعات بھی تھیں جس کی وجہ سے شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو دس دس لاکھ، ہلاک ہونے والے شہریوں کے ورثاء کو تین تین لاکھ جبکہ زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
’داخلی مسلح تصادم‘
10 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد