لاہور خودکش حملے کے ملزماں گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اس سال گیارہ مارچ کو لاہور میں ایف آئی اے کے صوبائی ہیڈ کوراٹر اور ماڈل ٹاؤن میں واقع دفتر پر ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کرکے اُن کے قبضے سے خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹیں اور دوسرا آتش گیر مادہ برآمد کرلیا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے منظور چوہدری نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے ارکان کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ کچھ شدت پسند اہم سرکاری عمارتوں اور شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معلومات کی روشنی میں اس ٹیم کے ارکان نے جمعرات کی شب لاہور اور گوجرانوالہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر پانچ افراد کو گرفتار کرکے اُن کے قبضے سے بھاری مقدار میں آتش گیر مادہ برامد کر لیا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں عبدالواحد، عنایت اللہ، عاصم، انعام الحق اور حافظ فدالرحمن شامل ہیں اور ان کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدمات کی تفتیش کرنے والی ٹیم ان ملزمان کے ایک اور ساتھی حمزہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے ما رہی ہے۔ چوہدری منظور نے کہا کہ ان افراد سے لاہور اور دیگر علاقوں میں ہونے والے خودکُش حملوں کی تحقیقات میں کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ لاہور میں مال روڈ کے نزدیک واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے ایف بلاک میں ہونے والے دو حملوں میں کم سے کم تیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ زخمی ہوئے تھے ۔ وزارت داخلہ کے مطابق ماڈل ٹاؤن حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ٹیمپل روڈ پر واقع ایف آئی اے کے صوبائی ہیدکوارٹرز پر حملے میں ییس افراد مارے گئے ہیں جن میں ایف آئی اے کے بارہ اہلکار شامل ہیں۔ یہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ کئی کلو میٹر دور تک ان کی آوازیں سنی گئی اور درجنوں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس سے قبل چار مارچ کو لاہور ہی میں اپر مال پر واقع پاک بحریہ کے نیول وار کالج میں خود کش دھماکے میں ایک حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم ایف آئی اے کی عمارت پر کیے جانے والے خود کُش حلمے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے مالک محمد افضل کو پچیس مارچ کو گرفتار کیا تھا جو دوران حراست پراسرار حالات میں ہلاک ہوگیا تھا۔ پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں آ رہی تھیں کہ ایف آئی اے کی عمارت میں امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیش (ایف بی آئی) کا دفتر بھی موجود ہے جہاں پر نیول وار کالج کے ملزمان سے تفتیش کی جاری تھی۔ | اسی بارے میں ’عراق اور افغانستان سے بھی بد تر‘11 March, 2008 | پاکستان لاہور دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا11 March, 2008 | پاکستان لاہور دھماکے، 30 ہلاک، 160 زخمی11 March, 2008 | پاکستان لاہور میں دھماکے، اٹھارہ ہلاک، متعدد زخمی11 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||