BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 August, 2008, 06:24 GMT 11:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: مقامی رہنما سمیت 5 ہلاک

طالبان سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنا رہے ہیں
طالبان سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو نشانہ بنا رہے ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے صوبے کے حکمران قوم پرست جماعت کے ایک مقامی رہنماء سمیت پانچ افراد کو قتل کردیا ہے۔

سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی جوائنٹ سیکریٹری اور برہ بانڈہ یونین کونسل کے سابق ناظم محمد امین کو بدھ کی شب اپنے دیگر تین ساتھیوں سمیت قتل کردیا ہے۔

ان کے بقول یہ چاروں افراد سیدو شریف سے واپس آرہے تھے کہ ڈیرئی کے مقام پرگھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں چاروں افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جنکی لاشیں ورثاء کو بدھ کی صبح جائے وقوع سے اٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ان افراد کی ہلاکت کے وقت علاقے میں کرفیو نافذ تھا۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ بدھ ہی کی رات کو نامعلوم مسلح افراد نے ننگولئی کے مقام پر موسی خان نامی شخص کو اس وقت گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا جب وہ مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔انہیں شدید زخمی حالت میں سیدو شریف ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

 منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو بھی تحصیل مٹہ کے علاقے دروش خیلہ میں گرلز پرائمری اور گرلز ہائر سکینڈری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا تھا جسکی ذمہ داری بھی سوات کے طالبان نے قبول کرلی ہے۔
ایک دوسرے واقعے میں خوازہ خیلہ اور مینگورہ کو ملانے والے دِکوڑک نامی پُل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جب سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موسیٰ خان نامی شخص کو قتل اور پُل کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی تاہم انہوں نے اے این پی کے ضلعی رہنماء اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ موسیٰ خان نے ننگولئی کے مقام پر طالبان پر فائرنگ کی تھی جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے موقع پرپہنچ کر ان کے ساتھیوں کے خلاف کاروائی کی۔ ان کے دعویٰ کے مطابق موسیٰ خان جاری آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کو طالبان کے گھروں کی نشاندہی کراتے تھے۔ تاہم ان کے ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اس سے قبل منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو بھی تحصیل مٹہ کے علاقے دروش خیلہ میں گرلز پرائمری اور گرلز ہائر سکینڈری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا تھا جسکی ذمہ داری بھی سوات کے طالبان نے قبول کرلی ہے۔

ضلع سوات میں طالبان اور صوبائی حکومت کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی بظاہر ناکامی کے بعد سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی ہے جس کے دوران طالبان اور سرکاری اہلکاروں کے علاوہ درجنوں عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اسی عرصے میں لڑکیوں کے نوے سکولوں کو تباہ کر دیا گیا جس کی ذمہ داری نے طالبان قبول کی ہے۔

اسی بارے میں
سوات میں لڑائی، نقل مکانی
01 August, 2008 | پاکستان
سوات: تین مزید سکول نذرآتش
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد