’پہلا امتحان آئی ایس آئی پر قابو پانا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجود امریکی اور اس کی اتحادی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کے روز جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے قریب پہلی دفعہ امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے میزائل داغے گئے۔ پھر جمعہ کو شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائلوں کے تین حملے کیے گئے۔ اور اس کے بعد سوموار کو شمالی وزیرستان میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر میزائل حملہ۔ ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔‘
سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ’اِن افغانستان شیڈو‘ اور ’سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم‘ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ ’ پاکستان کی صورتحال سے دنیا اس وقت کنفیوزڈ اور پریشان ہے۔ اس حوالے سے نئی حکومت کا پہلا امتحان پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر قابو پانا ہے۔‘ ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آئی ایس آئی میں اسلامی حمایت پسند عناصر موجود ہیں جو کہ القاعدہ کے عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایس آئی کے بجٹ کو اپنے کنٹرول میں لے آتی ہے تو پھر اس ایجنسی کی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے مشکل بات آئی ایس آئی اور اس کے فنڈز پر قابو کرنا ہے۔ اور جب تک حکومت آئی ایس آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں لاتی اس وقت تک القاعدہ کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے۔ مسٹر ہیریسن کے مطابق طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||