BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 September, 2008, 09:08 GMT 14:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی اجازت ضروری نہیں‘

امریکی فوج
محدود زمینی کارروائیاں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائے گا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی

امریکی صدر جارج بش نے جولائي میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائياں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نےصدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ بدھ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔

 انگور اڈہ میں کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گيا۔
نیو یارک ٹائمز

سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکےہیں۔‘

انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئي گھنٹے تک کارروائي جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائي کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گيا۔

اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کارروائي میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔

 شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مؤثر بنادیا گيا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے کی گئي ہے۔
نیو یارک ٹائمز

تاہم اخـبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مؤثر بنا دیا گيا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئي ہے۔

اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔

 بھارتی سفارتخانے پر حملے کے منصوبے کے بارے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت اعلٰی پاکستانی عملداروں کو پیشگي معلومات تھیں۔
نیو یارک ٹائمز

اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائي کرسکتے ہیں۔

تاہم امریکی اخـبار نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔ اخـبار کے مطابق گزشتہ پیر کو شمالی وزیرستان میں ایک ایسی فضائي کارروائي میں القائدہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد