’پاکستانی اجازت ضروری نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے جولائي میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائياں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نےصدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ بدھ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔ سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکےہیں۔‘ انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئي گھنٹے تک کارروائي جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائي کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گيا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کارروائي میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔ تاہم اخـبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مؤثر بنا دیا گيا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئي ہے۔ اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائي کرسکتے ہیں۔ تاہم امریکی اخـبار نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔ اخـبار کے مطابق گزشتہ پیر کو شمالی وزیرستان میں ایک ایسی فضائي کارروائي میں القائدہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’پہلا امتحان آئی ایس آئی پر قابو پانا ہے‘08 September, 2008 | پاکستان تحریکِ طالبان پاکستان پر پابندی 25 August, 2008 | پاکستان ’خلیج گوانتانامو: کوائف اکٹھے کر رہے ہیں‘22 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں سرحد پار سے حملہ18 August, 2008 | پاکستان پاک: امریکی تنقید کا نشانہ کیوں؟03 August, 2008 | پاکستان حملے میں آئی ایس آئی ملوث: رپورٹ01 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||