تحریکِ طالبان پاکستان پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں پاکستان کے مقامی طالبان کی تنظیم تحریک طالبان پاکستان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس ضمن میں تنظیم کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ تحریک طالبان نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے اعلان کو بےمعنی ہے اس سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تنظیم کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے کہا کہ تحریک طالبان کوئی سیاسی تنظیم نہیں جس پر پابندی سے اس کی اسلام آباد یا پارلیمان میں حصہ حاصل کرنے یا رکنیت حاصل کرنے میں مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے۔ پابندی کے بارے میں وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ اس ضمن میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مختلف خبر رساں اداروں نے مشیر داخلہ سے کے حوالے سے یہ خبر جاری کی تھی۔ وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق نہ صرف اس کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا گیا ہے کہ اس کے کارکنوں کی نقل وحمل پر بھی نظر رکھی جائے۔ اہلکار کا کہنا ہے کہ حکومت نے سٹیٹ بینک سے بھی کہا ہے کہ وہ تنظیم کے اکاؤنٹس کے بارے میں دیگر مختلف بینکوں سے معلومات اکھٹی کر کے نہ صرف انہیں منجمد کریں بلکہ اگر کوئی ان کھاتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اُس کی اطلاع مقامی پولیس کو دی جائے۔ یاد رہے کہ کسی بھی تنظیم کے اکاؤنٹس تلاش کرنے کے لیے ایک لمبا طریقۂ کار ہے جس میں کم از کم دو سے زائد ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان بارہ دسمبر سنہ دوہزار سات کو بنائی گئی تھی اور اس تنظیم کے کارکنوں نے جنوبی وزیرستان میں سرگرم طالبان رہنما بیت اللہ محسود کو اس تنظیم کا پہلا سربراہ چُنا تھا۔ اس تنظیم نے اپنے قیام کے بعد سے پاکستان میں ہونے والے ایسے متعدد خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں بالخصوص سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تحریکِ طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف عدالتوں نے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے ’ماسٹر مائنڈ‘ ہونے کے الزام میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہوئے ہیں تاہم بیت اللہ محسود بےنظیر قتل کیس میں ملوث ہونے کی متعدد بار تردید کر چکے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نےگزشتہ کئی برس میں درجنوں عسکریت پسند تنظیموں پر پابندی عائد کی ہے تاہم یہ تنظیمیں نام تبدیل کرکے ابھی بھی مبینہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا تھا کہ ابھی تک تحریک طالبان پاکستان پر پابندی کیوں نہیں عائد کی گئی۔ | اسی بارے میں باجوڑ آپریشن جاری رہے گا: پاک فوج22 August, 2008 | پاکستان وزیرستان:’طالبان کی تصفیہ کمیٹیاں‘17 August, 2008 | پاکستان خیبر:’شدت پسند‘ رہنما کی ہلاکت13 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں طالبان یا غیر ملکی؟05 August, 2008 | پاکستان طالبان: رحمان ملک کا الزام مسترد31 July, 2008 | پاکستان بیت اللہ کی دھمکی پر کابینہ کا اجلاس21 July, 2008 | پاکستان مہمند لڑائی: بیت اللہ کا نوٹس20 July, 2008 | پاکستان سرحد حکومت کو بیت اللہ کی دھمکی17 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||