وزیرستان:’طالبان کی تصفیہ کمیٹیاں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود نے لوگوں کے معاملات کے تصفیہ کے لیے ایک مرکزی کمیٹی اور چار علاقائی کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت سے ایک معاہدے کے نتیجے میں رہا ہونے والے طالبان رہنما محمد رائیس محسود کو مرکزی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے جبکہ مزید سولہ علماء کو کمیٹیوں میں شامل کیا گیا ہیں۔ محمد رائیس محسود کو دو ہزار سات میں پولیس کے ایک ٹیم نے ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا تھا اور چھ مہینے قید رکھنے کے بعد مرکزی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان نے یہ اعلان ایک پمفلٹ کے ذریعہ کیا ہے۔ پمفلٹ کے مطابق مرکزی کمیٹی پانچ علماء پر مشتمل ہے جبکہ چار علاقائی کمیٹیاں بروند، سراروغہ، مکین اور سام کے مقامات پر لوگوں کے مسائل سنیں گی۔ پمفلٹ میں تمام حلقوں اور طالبان کو ہدایت کی ہے کہ محمد رائیس محسود کی سربراہی میں نئے ترتیب شدہ نظام کی پاسداری کریں اور انصاف کے حصول کے سلسلے میں رکاوٹ بننے سے گریز کریں۔ پمفلٹ میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اس نظام و ترتیب کو کامیاب بنانے میں عوامی حلقے بھرپور تعاون کریں۔ یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں کافی عرصہ سے حکومت کی عملداری ختم ہوچکی ہے۔ علاقہ محسود کے دو اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ اور سات تحصیلدار پہلے سے ہی ضلع ٹانک میں بیٹھے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے علاقہ محسود سے فوج اور انگریز دور سے موجود سکاؤٹس فورس کے اہلکار بھی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوکر چلے گئے ہیں۔ اس وقت علاقے میں موجود لوگ بھی بظاہر حکومت کے فیصلوں سے خوش نہیں اور مقامی طالبان کے فیصلوں سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ |
اسی بارے میں مہمند میں طالبان کی باہمی جھڑپ19 July, 2008 | پاکستان مزید اقدامات کریں: رائس25 July, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی میں طالبان نہیں:شیری01 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں طالبان یا غیر ملکی؟05 August, 2008 | پاکستان طالبان کے خلاف قبائل متحد ہو گئے18 July, 2008 | پاکستان ’باجوڑ میں گولہ باری، آٹھ ہلاک‘14 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||