BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 August, 2008, 22:05 GMT 03:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور

باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی کرنے پر مجبور لوگ
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی کرنے پر مجبور لوگ

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ آٹھ روز سے سکیورٹی فورسز اور طالبان کی جھڑپوں کے بعد علاقے سے بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت کو مقامی لوگوں نے باجوڑ کی حالیہ تاریخ کے دوران سب سے بڑی نقل مکانی قرار دیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ کی آبادی تقریباً نو لاکھ کے قریب ہے تاہم بی بی سی نے مقامی مشران، صحافیوں اور ہجرت کرنے والوں سے بات کی ہے اور ان کے بقول ایک محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر حتمی تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آٹھ دن قبل صدر مقام خار سے بارہ کلومیٹر دور لوئی سم کے صرف پانچ ہزار رہائشی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے لیکن فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے اب نو لاکھ کے قریب آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری اور توپوں کی گھن گھرج کے دوران بچے، بوڑھے اورخواتین پیدل اور گاڑیوں میں محفوظ مقامات کی تلاش میں ایجنسی سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عورت زندہ رہی، بچہ ہلاک ہوگیا
 پہاڑی سلسلے میں چار گھنٹے تک پیدل سفر کرنے والے ایک شخص مرسلین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کےساتھ قافلے میں پندرہ سو کے قریب لوگ شامل تھے۔ ان کے بقول’بمباری اور مسلسل جھڑپوں سے تنگ آکر ہم پشاور کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں بچوں اور عورتوں کی آہ و بکاہ تھی۔ میں نے خود ایک عورت کو پردہ کے پیچھے بچہ جنتے ہوئے دیکھا۔ عورت توزندہ رہی مگر بچہ ہلاک ہوگیا۔‘
پہاڑی سلسلے میں چار گھنٹے تک پیدل سفر کرنے والے ایک شخص مرسلین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کےساتھ قافلے میں پندرہ سو کے قریب لوگ شامل تھے۔ ان کے بقول’بمباری اور مسلسل جھڑپوں سے تنگ آکر ہم پشاور کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں بچوں اور عورتوں کی آہ و بکاہ تھی۔ میں نے خود ایک عورت کو پردہ کے پیچھے بچہ جنتے ہوئے دیکھا۔ عورت توزندہ رہی مگر بچہ ہلاک ہوگیا۔‘

پشاور کے خیبر بازار میں باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے جن افراد سے ملاقات ہوئی ان میں حاجی مرسلین بھی شامل تھے۔ان کے بقول’ ہم ایک گھر میں دو سو افراد رہتے ہیں لیکن نقل مکانی کے بعد ہم سب بکھر گئے ہیں۔ مجھے بعض افراد کے علاوہ باقی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ وہ کہاں گئے ہیں۔ ہمارے دس افراد اب بھی صدر مقام خار میں پھنسے ہیں جو نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’میں تن پر صرف ایک جوڑہ کپڑا لیکر آیا ہوں۔ صبح اس سے دھوکر دوبارہ پہن لیا ہے۔ ہمارے گھر کا سامان، گاڑیاں، سونا اور سب کچھ وہیں رہ گیا ہے۔‘

حاجی مرسلین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود خیبر بازار میں باجوڑ سے آئے ہوئے کئی بچوں کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا جو ایک دکاندار سے کہہ رہے تھے۔’ ہم باجوڑ سے آئے ہیں اور بھوکے ہیں ہمیں خیرات دیدیں۔‘

نقل مکانی کرنے والوں کو ایک بڑی مشکل گاڑیوں کی عدم دستیابی ہے، جنہیں اگرملی بھی ہیں تو انہوں زیادہ کرایہ لینے کی شکایت کی ہے۔ داود شاہ نے کہا کہ ’میں اپنے بال بچوں کے ہمراہ تین گھنٹے پیدل سفر کرنے کے بعد جب مہمند ایجنسی پہنچا تو وہاں پر ایک گاڑی ملی جس نے آٹھ ہزار کا کرایہ بتایا حالانکہ ہم عموماً ایک سو روپے ہی کرایہ دیتے آئے ہیں۔‘

کرایہ، سو روپے کے بجائے آٹھ ہزار
 نقل مکانی کرنے والوں کو ایک بڑی مشکل گاڑیوں کی عدم دستیابی ہے، جنہیں اگرملی بھی ہیں تو انہوں زیادہ کرایہ لینے کی شکایت کی ہے۔ داود شاہ نے کہا کہ ’میں اپنے بال بچوں کے ہمراہ تین گھنٹے پیدل سفر کرنے کے بعد جب مہمند ایجنسی پہنچا تو وہاں پر ایک گاڑی ملی جس نے آٹھ ہزار کا کرایہ بتایا حالانکہ ہم عموماً ایک سو روپے ہی کرایہ دیتے آئے ہیں۔‘
ہجرت کرنے والے زیادہ تر صوبہ سرحد کے ضلع دیر جا رہے ہیں جبکہ مہمند ایجنسی، پشاور، مردان اور بعض دیگر علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ کئی لوگ اپنے عزیز واقارب کے ہاں ٹھہرے ہیں لیکن بڑے شہروں کے چھوٹے گھروں میں وہ کس حالت میں رہتے ہیں۔

پشاور میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر ٹھہرے ہوئے روح اللہ نے بتایا: ’میں ادھر ایک رات ایک رشتہ دار کے ہاں گزارتا ہوں اور دوسری رات دوسرے کےہاں۔ ہم چھتیس افراد ہجرت کرکے آئے ہیں، جہاں ٹھہرتے ہیں وہاں کمروں میں اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ پیر پھیلا کر لیٹ جائیں۔‘

متاثرین کی بڑی تعداد ضلع دیر کی جانب ہجرت کر رہی ہے۔ وہاں پر لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امداد نہیں ملی ہے۔ایک شحص غلام محمد نے بتایا کہ زیادہ تر لوگوں نے سڑک کے کنارے اور درختوں کے نیچے پڑاؤ ڈالا ہے۔

ان کے بقول’نہ خیمہ ہے، کھانا، پانی اور نہ ہی دوائی ہے۔ خدارا حکومت سے کہہ دیں کہ ہماری مدد کریں۔ حکومت اوپر سے بمباری کر رہی ہے جبکہ نیچے ہمیں بے آسرا چھوڑدیا گیا ہے۔‘

ضلع دیر میں الخدمت فاؤنڈیشن نے کئی کیمپ قائم کیے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار فضل محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ جس تعداد میں لوگ آرہے ہیں انہیں مدد فراہم کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ان کے مطابق’ یہ کام حکومت اور عالمی امدادی اداراروں کا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کریں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے لوگ بھی آئے ہیں جنہیں ہجرت کے وقت گن شپ ہیلی کاپٹروں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول انہوں نے اپنے ایمبولنس میں جنگ زدہ علاقوں سے اب تک بارہ عام شہریوں کی لاشیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمی افراد لائے ہیں۔ ان کے بقول افراد کوگن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

شہریوں پر گن شِپ سے حملہ
 ضلع دیر میں الخدمت فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار فضل محمود یہ بھی کہا کہ ایسے لوگ بھی آئے ہیں جنہیں ہجرت کے وقت گن شپ ہیلی کاپٹروں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول انہوں نے اپنے ایمبولنس میں جنگ زدہ علاقوں سے اب تک بارہ عام شہریوں کی لاشیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمی افراد لائے ہیں۔ ان کے بقول افراد کوگن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والوں جھڑپوں میں آبائی وطن سے ہجرت کا المیہ اپنی جگہ لیکن تحصیل ماموند کے لوگوں کو وطن چھوڑنے کی یہ تلخ گھنٹ پینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل ماموند میں مسلح طالبان نے قافلوں کو یہ کہہ کر روکا ہے کہ ’خواتین گھروں میں بیٹھ جائیں اور مرد بندوق لیکر ان کے ہمراہ لڑیں۔‘ یہی وہ الزام ہے جو پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نےبھی لگایا۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ طالبان ماموند کےعلاقے میں عام شہریوں کو نقل مکانی سے روک رہے ہیں تاکہ بقول ان کے انہیں ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

اس سلسلے میں جب طالبان ترجمان مولوی عمر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ عام شہریوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کے بقول’ ہم نے کل انہیں اس لیے روکا تھا کیونکہ اس وقت بمباری اتنی شدید نہیں تھی۔لیکن آج جب بمباری میں شدت آئی تو ہم نے انہیں نقل مکانی کرنے سے نہیں روکا۔‘

طالبان کا ’قبضہ‘
باجوڑ میں ڈسپنسری، سکول پر طالبان ’قابض‘
طالبانباجوڑ:نقاب پر پابندی
باجوڑ میں طالبان کی مردوں کے نقاب پر پابندی
کچھ نہیں بدلے گا
فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی
’نو گو ایریا‘
ہنگو حملہ، علاقہ نو گو ایریا سمجھا جاتا ہے
مقامی طالبان(فائل فوٹو)’سنگساری‘ کی سزا
سنگسار شدہ جوڑے کی لاشیں لوٹا دی گئیں
طالبان (فائل فوٹو)’حتمی معاہدہ جلد‘
جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں: مقامی طالبان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد