باجوڑ کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ آٹھ روز سے سکیورٹی فورسز اور طالبان کی جھڑپوں کے بعد علاقے سے بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت کو مقامی لوگوں نے باجوڑ کی حالیہ تاریخ کے دوران سب سے بڑی نقل مکانی قرار دیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ کی آبادی تقریباً نو لاکھ کے قریب ہے تاہم بی بی سی نے مقامی مشران، صحافیوں اور ہجرت کرنے والوں سے بات کی ہے اور ان کے بقول ایک محتاط اندازے کے مطابق دو لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر حتمی تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آٹھ دن قبل صدر مقام خار سے بارہ کلومیٹر دور لوئی سم کے صرف پانچ ہزار رہائشی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے لیکن فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے اب نو لاکھ کے قریب آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری اور توپوں کی گھن گھرج کے دوران بچے، بوڑھے اورخواتین پیدل اور گاڑیوں میں محفوظ مقامات کی تلاش میں ایجنسی سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پشاور کے خیبر بازار میں باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے جن افراد سے ملاقات ہوئی ان میں حاجی مرسلین بھی شامل تھے۔ان کے بقول’ ہم ایک گھر میں دو سو افراد رہتے ہیں لیکن نقل مکانی کے بعد ہم سب بکھر گئے ہیں۔ مجھے بعض افراد کے علاوہ باقی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ وہ کہاں گئے ہیں۔ ہمارے دس افراد اب بھی صدر مقام خار میں پھنسے ہیں جو نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ’میں تن پر صرف ایک جوڑہ کپڑا لیکر آیا ہوں۔ صبح اس سے دھوکر دوبارہ پہن لیا ہے۔ ہمارے گھر کا سامان، گاڑیاں، سونا اور سب کچھ وہیں رہ گیا ہے۔‘ حاجی مرسلین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود خیبر بازار میں باجوڑ سے آئے ہوئے کئی بچوں کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا جو ایک دکاندار سے کہہ رہے تھے۔’ ہم باجوڑ سے آئے ہیں اور بھوکے ہیں ہمیں خیرات دیدیں۔‘ نقل مکانی کرنے والوں کو ایک بڑی مشکل گاڑیوں کی عدم دستیابی ہے، جنہیں اگرملی بھی ہیں تو انہوں زیادہ کرایہ لینے کی شکایت کی ہے۔ داود شاہ نے کہا کہ ’میں اپنے بال بچوں کے ہمراہ تین گھنٹے پیدل سفر کرنے کے بعد جب مہمند ایجنسی پہنچا تو وہاں پر ایک گاڑی ملی جس نے آٹھ ہزار کا کرایہ بتایا حالانکہ ہم عموماً ایک سو روپے ہی کرایہ دیتے آئے ہیں۔‘
پشاور میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر ٹھہرے ہوئے روح اللہ نے بتایا: ’میں ادھر ایک رات ایک رشتہ دار کے ہاں گزارتا ہوں اور دوسری رات دوسرے کےہاں۔ ہم چھتیس افراد ہجرت کرکے آئے ہیں، جہاں ٹھہرتے ہیں وہاں کمروں میں اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ پیر پھیلا کر لیٹ جائیں۔‘ متاثرین کی بڑی تعداد ضلع دیر کی جانب ہجرت کر رہی ہے۔ وہاں پر لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امداد نہیں ملی ہے۔ایک شحص غلام محمد نے بتایا کہ زیادہ تر لوگوں نے سڑک کے کنارے اور درختوں کے نیچے پڑاؤ ڈالا ہے۔ ان کے بقول’نہ خیمہ ہے، کھانا، پانی اور نہ ہی دوائی ہے۔ خدارا حکومت سے کہہ دیں کہ ہماری مدد کریں۔ حکومت اوپر سے بمباری کر رہی ہے جبکہ نیچے ہمیں بے آسرا چھوڑدیا گیا ہے۔‘ ضلع دیر میں الخدمت فاؤنڈیشن نے کئی کیمپ قائم کیے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار فضل محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ جس تعداد میں لوگ آرہے ہیں انہیں مدد فراہم کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ان کے مطابق’ یہ کام حکومت اور عالمی امدادی اداراروں کا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کریں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے لوگ بھی آئے ہیں جنہیں ہجرت کے وقت گن شپ ہیلی کاپٹروں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول انہوں نے اپنے ایمبولنس میں جنگ زدہ علاقوں سے اب تک بارہ عام شہریوں کی لاشیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمی افراد لائے ہیں۔ ان کے بقول افراد کوگن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل ماموند میں مسلح طالبان نے قافلوں کو یہ کہہ کر روکا ہے کہ ’خواتین گھروں میں بیٹھ جائیں اور مرد بندوق لیکر ان کے ہمراہ لڑیں۔‘ یہی وہ الزام ہے جو پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نےبھی لگایا۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ طالبان ماموند کےعلاقے میں عام شہریوں کو نقل مکانی سے روک رہے ہیں تاکہ بقول ان کے انہیں ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں جب طالبان ترجمان مولوی عمر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ عام شہریوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کے بقول’ ہم نے کل انہیں اس لیے روکا تھا کیونکہ اس وقت بمباری اتنی شدید نہیں تھی۔لیکن آج جب بمباری میں شدت آئی تو ہم نے انہیں نقل مکانی کرنے سے نہیں روکا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||