BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’باجوڑ میں گولہ باری، آٹھ ہلاک‘

 سکیورٹی فورسز
طالبان ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کی گولہ باری جاری ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق گھروں پر مارٹر گولے گرنے سے آٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف باجوڑ ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فقیر محمد کی گاڑی کو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے تاہم طالبان کے مطابق گاڑی میں طالبان رہنما موجود نہیں تھے۔

فوج کے ترجمان میجر مراد نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جن میں آٹھ سے دس شدت پسند سوار تھے جو ہلاک ہوگئے۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا مولوی فقیر محمد ان میں شامل ہیں یا نہیں۔

باجوڑ سے موصولہ اطلاعات میں مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات اور جمعرات کی صبح سکیورٹی فورسز نے سالارزئی اور ماموند تحصیلوں پر شدید گولہ باری کی جس میں عام شہریوں کے گھر نشانہ بنے۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک مارٹر گولہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوگئے جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے داغا گیا ایک مارٹر گولہ شین کوٹی کے علاقے میں گرنے سے بھی دو افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم سرکاری طورپر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دریں اثناء باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد کی گاڑی کو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے جس سے ان کی گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر ڈمہ ڈولہ کے علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مولوی فقیر محمد کے گاڑی کو نشانہ بنایا جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ تاہم ان کے بقول گاڑ ی میں مولوی فقیر یا کوئی اور طالب موجود نہیں تھا۔

عام لوگوں کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے فوری طورپر نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

ادھر باجوڑ ایجنسی میں حکومت کی طرف سے ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں عام لوگوں کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے فوری طورپر نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ پمفلٹ کے مطابق باجوڑ ایجنسی کے تمام سڑکیں عوام اور گاڑیوں کے لیے کھلی رہیں گی تاہم جب بھی فضا میں ہیلی کاپٹر نظر آئے گا تو تمام سواریاں گاڑی سے نیچے اتر کر ہاتھ فضا میں بلند کریں گی، گاڑی درخت کے نیچے نہیں بلکہ سڑک پر کھڑی کی جائے گی اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو خلاف ورزی کرنے والوں پر حملہ کیا جائے گا۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص پیدل نظر آئے گا اگر اس نے ہوا میں ہاتھ بلند نہ کیے تو اسے بھی مارنے کا حکم ہے ، اگر کوئی شخص بیٹھا ہے تو کھڑا ہو کر ہاتھ بلند کرے۔ جہاں کہیں طالبان ہیں ان علاقوں کو مقامی باشندے فوری طورپر علاقے خالی کر دیں۔

طالبان کا ’قبضہ‘
باجوڑ میں ڈسپنسری، سکول پر طالبان ’قابض‘
طالبانباجوڑ:نقاب پر پابندی
باجوڑ میں طالبان کی مردوں کے نقاب پر پابندی
کچھ نہیں بدلے گا
فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی
اسی بارے میں
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد