BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 August, 2008, 06:39 GMT 11:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر:’شدت پسند‘ رہنما کی ہلاکت

حاجی نامدار
حاجی نامدار پر ماضی میں بھی قاتلانہ حملے ہوئے تھے
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک نامعلوم شخص نے مبینہ شدت پسند تنظیم’امر بالعروف و نہی عنی المنکر‘ کے سربراہ حاجی نامدار کو درسِ قرآن کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

حاجی نامدار کچھ عرصے قبل بھی ایک مبینہ خودکش حملے اور مدرسے میں ہونے والے بم دھماکے میں محفوظ رہے تھے۔

مقامی تنظیم امر بالمعروف و نہی عنی المنکر کے ترجمان اور عینی شاہد منصف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح تحصیل باڑہ سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور بر قمبر خیل کے علاقےمیں پیش آیا۔

ان کے مطابق حاجی نامدار معمول کے مطابق اپنے دینی مدرسے میں درسِ قرآن میں مصروف تھے کہ مجمع میں موجود ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کلاشنکوف سے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

منصف خان نے مزید بتایا کہ حاجی نامدار کے سینے میں تقریباً بارہ گولیاں لگی ہیں جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول تنظیم کے رضا کاروں نے حملہ آور کو پکڑ لیا ہے اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور ایک مقامی شخص ہے جسے بہت جلد میڈیا کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

پاکستان میں سرگرم طالبان تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی مخاصمت کی وجہ سے خیبر ایجنسی میں مبینہ شدت پسند تنظیم کے رہنماء کے طور پر حاجی نامدار کی اہمیت میں اضافہ ہوا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے غیر ملکیوں کے ساتھ اچھے روابط تھے اور ان کے رضا کار افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف لڑنے جاتے ہیں۔

تیس جون کو حاجی نامدار کے مدرسےمیں دھماکے سے سات افراد مارے گئے تھے

حاجی نامدار پر اس سے قبل یکم مئی کو بھی ایک خود کش حملہ آور نے درسِ قرآن کے بعد چندہ جمع کرنے کے دوران حملہ کیا تھا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے تھے البتہ حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ زخمی ہوگئے تھے۔

انہوں نے اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود پر عائد کی تھی اور بعد میں کرم ایجنسی میں طالبان کے کمانڈر حکیم اللہ نے قبائلی جرگے کی توسط سےخود کش حملہ آور کی لاش وصول کر لی تھی۔

اس کے ایک ماہ بعد تیس جون کو حاجی نامدار کے مدرسے میں ایک پراسرار دھماکہ ہوا تھا جس میں سات افراد ہلا ک اور نو زخمی ہوگئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ سرحد پار افغانستان سے امریکی فوج نے ان کے مدرسے پر میزائل حملہ کیا ہے۔

انتالیس سالہ حاجی نامدار پانچ سال قبل محنت مزدوری کی خاطر سعودی عرب میں مقیم تھے اور وہاں سے واپسی پر انہوں نے امر بالمعروف و نہی عنی المنکر کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کا مقصد’اصلاح معاشرہ اور اسلامی تعلیمات‘ کی ترویج تھی۔

ان کی مخالفت میں ایک مقامی شخص حاجی ظریف نے قومی گروپ کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔ ان دونوں تنظیموں کے درمیان طویل عرصے تک خونریز جھڑپیں ہوئیں جن میں دونوں طرف سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔قومی گروپ کے سربراہ حاجی ظریف کے قتل کے بعد یہ گروپ خود بخود ختم ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد