باڑہ آپریشن:اخبارات کی نظر میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اخبارات نےخیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن شروع کرنے پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اردو اخباروں کی اکثریت نے فوجی آپریشن کی حمایت کی ہے جبکہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آپریشن جیسے’تھیٹروں کی بجائے شدت پسندوں کے اصل مراکز پر توجہ دے۔ اردو اخبارات کی اکثریت نے باڑہ آپریشن کی حمایت کی لیکن بعض نے آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ طاقت کی بجائے بات چیت کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔ جنگ جنگ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قیمت پر حکومتی عملداری کو بحال کرے خواہ اسے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔ اخبار نے لکھا کہ حکومت کا فیصلہ مستحسن ہے کہ وہ آپریشن شروع کرنے کے باوجود، بات چیت کا راستہ بند نہیں کر رہی ہے اور اب مقامی شدت پسندوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں یا جنگ و جدل سے۔ اخبار کے خیال میں مقامی شدت پسندوں کے حالیہ اقدامات کی وجہ سے فوجی آپریشن کا جواز ہے۔ نوائے وقت روزنامہ ایکسپریس روزنامہ ایکسپریس نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ قبائلی عمائدین سے زیادہ کوئی بھی علاقے کے مسائل کو نہیں جانتا اور وہ علاقے کے مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اخبار کے خیال میں حکومت کو ان قبائلی سرداروں سے فوراً رابطہ بحال کرنا چاہیے جن کے ذریعے محسود قبائل اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔ اخبار کے مطابق حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ پشاور کے قریبی علاقوں خصوصاً باڑہ میں جرائم پیشہ افراد کی علاقے کے امن و امان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ روزنامہ اسلام روزنامہ اسلام نے خیبر ایجسنی میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومت کو اپنی عملداری کو بحال کرنے کے لیے طاقت کی بجائے دوسرے ذرائع کو استعمال میں لانا چاہیے۔ اخبار کے مطابق طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔ اخبار کے مطابق مقامی قبائل کے خلاف طاقت کا استعمال ’بیرونی طاقتوں‘ کی خواہش ہے اور پاکستانی مفادات کو بیرونی خواہشات پر قربان نہیں کرنا چاہیے۔ روزنامہ خبریں کثیر الاشاعتی اخبار’خبریں‘ نے سرحد کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کا یہ کہنا کہ شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کے باوجود وہ بات چیت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتے، ہی صیح راستہ ہے اور حکومت کو اسی راستے پر چلتے ہوئے بات چیت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہیے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ بڑی جنگوں کے بعد بھی معاملات کا حل مذاکرات کی میز پر ہی ہوا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ قبائلی بھی پاکستان کے اتنے ہی شہری ہیں جتنا کوئی اور ڈان اخبار انگریزی اخبار ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ مسئلہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے آگے کا ہے۔ اخبار کے مطابق حاجی نامدار یا منگل باغ حکومت کے لیے جھنجلاٹ کا باعث تو بن سکتے ہیں لیکن کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ اخبار نے چالیس ایف سی اہلکاروں کے اغوا اور رہائی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جب حکومت اپنے اہلکاروں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو پھر وہ عام لوگوں کو تحفظ کی کیا ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ اخبار کے مطابق مسئلہ باڑہ آپریشن سے بہت آگے کا ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ دی نیوز دی نیوز اخبار نے باڑہ آپریشن کو ایک ’دھوکہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے ڈراموں سے شدت پسندی کا جن قابو میں نہیں آئے گا۔ اخبار نے اپنی ہی ایک خبر کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ باڑہ آپریشن کا مقصد شدت پسندوں کا قلعہ قمعہ کی بجائے اپنی عوام اور امریکی پالیسی سازوں میں ابہام پھیلانا ہے۔ اخبار کے مطابق ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں آپریشن کی شروعات اور ایف سی کے کمانڈر کی طرف سے آپریشن کا ٹائم فریم پریس کانفرنس میں بتانا ایسے اشارے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ شدت پسند ی کا خاتمہ حکومت کی اولیت نہیں ہے۔ اخبار کے خیال میں باڑہ آپریشن سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ حکومت شدت پسندوں کو کنٹرول کرنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی۔ | اسی بارے میں پشاور طالبان کے گھیرے میں29 June, 2008 | پاکستان ’خیبر آپریشن جرائم کے خاتمے کے لیے‘28 June, 2008 | پاکستان خیبر: لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن 28 June, 2008 | پاکستان خیبر ایجنسی :سترہ خاصہ دار اغواء23 June, 2008 | پاکستان خیبرایجنسی میں دو مراکز تباہ01 July, 2008 | پاکستان باڑہ آپریشن: لوگوں کا نقصان، مذہبی تنازعے30 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||