BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 June, 2008, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خیبر آپریشن جرائم کے خاتمے کے لیے‘

خیبر ایجنسی
تحصیل باڑہ میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے
پاکستانی حکام کاکہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ مخالفین کے کئی مراکز اور موچوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

پشاور میں ہنگامی طور پر بلائی گئی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل عالم خٹک کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا سب سے بڑا مقصد پشاور کے مضافات میں گزشتہ کچھ عرصے سے جرائم کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا ہے۔

وفاقی مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک کا بھی کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر میں کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ خاص خاص اہداف پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

عالم خٹک نے کہا کہ جمعہ کو باڑہ میں شروع کی جانے والی کارروائی ابھی تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کے علاوہ بعض اہم مراکز اور مورچوں کو تباہ کردیا ہے۔

ان کے مطابق آپریشن کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ مخالفین کی طرف سے کی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو ٹینک، توپخانے اور بکتر بندگاڑیوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

ان کے مطابق علاقے میں مکمل طور پر کرفیو نافذ ہے جبکہ بعض راستوں کو آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی گروہ یا فرد کے خلاف نہیں کی جا رہی بلکہ اس کا مقصد قبائلی علاقے باڑہ میں حکومتی عملداری کی بحالی اور ان جرائم کی روک تھام کرنا ہے۔ان کے بقول پشاور میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر حکومت نے فرنٹیئر کور کو اجازت دے دی کہ وہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کے تمام ٹھکانوں کو تباہ کر دے۔

سکیورٹی فورسز کو ٹینک، توپخانے اور بکتر بندگاڑیوں کی مدد بھی حاصل ہے

ان کے مطابق تحصیل باڑہ مبینہ جرائم پیشہ افراد کا سب سے بڑا مرکز تھا س لیے انہوں نے پہلے یہاں سے کاروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد پشاور کے آس پاس علاقوں میں موجود بعض دیگر چھوٹے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

اس موقع پر فرنٹیئر کور کے سربراہ کو صحافیوں کی جانب سے تُند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے بار بار پوچھا گیا کہ وہ کیوں جان بوجھ کر اس تنظیم یا افراد کا نام لینے سے گریز کر رہے ہیں جن کے خلاف یہ کاروائی شروع کی گئی ہے تاہم وہ ہر سوال کے جواب میں یہی کہتے رہے کہ’ آپریشن کسی فرد یا گروپ کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہا ہے‘۔

ایک صحافی نے جب بار بار پوچھا کہ کیا ان جرائم میں لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ یا حاجی نامدار مبینہ طور پر ملوث ہیں تو مخمصے میں پڑنے کے بعد انہوں نے کہا کہ’ آپ کو ناموں کا پتہ ہے اس لیے میں کچھ نہیں کہنا چاہوں گا‘۔

اس سوال پر کہ جنوبی وزیرستان اور سوات میں ماضی میں ہونے والی کارروائیوں کی مبینہ ناکامی کے بعد باڑہ کا آپریشن بھی بظاہر سکیورٹی فورسز کا محض ایک ریہر سل معلوم ہو رہا ہے، عالم خٹک کا کہنا تھا ’یہ بہت ہی گھمبیر مسئلہ ہے جوگزشتہ پندرہ سال سے پنپ رہا تھا لہذٰا اس آپریشن کے ذریعے مسئلے سے سیاسی طور پر نمٹنے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔

آپریشن کسی فرد یا گروپ کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہا ہے:عالم خٹک

دوسری طرف خیبر ایجنسی کے پولٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لشکر اسلام کے خلاف کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تحصیل باڑہ کے علاقے گنداؤ، کوئیی اور آس پاس کے گاؤں میں واقع لشکرِ اسلام کے مراکز اور مورچوں کو توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔

ادھر مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ذوالفقار علی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کارروائی اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ وہاں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ’الٹے سیدھے‘ سکول اور مدرسے بنائے گئے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ پشاور میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغواء کے باعث صورتحال بگڑ گئی تھی۔

رحمان ملک کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے اردگرد بھی خاص خاص مقام پر جرائم پیشہ لوگ ہیں اور ان سے صوبائی حکومت نمٹ رہی ہے کیونکہ صوبے میں قانون پر عملدرآمد کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت مخصوص اہداف پر کارروائی کرتی ہے تو مرکزی حکومت اس کے ساتھ ہے اور یہ کہ اگر ان کو فورس یا لاجسٹک کی ضرورت ہو تو ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں‘۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
دو دھماکوں میں دو ہلاک
23 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد