BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 June, 2008, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر: لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن

خیبر ایجنسی
تحصیل باڑہ میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکومت نے کرفیو کے نفاذ کے بعد مقامی شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے خلاف باقاعدہ آپریشن شروع کردیا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق تنظیم کے بعض مراکز کو تباہ کردیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی مقامی انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تحصیل باڑہ کے علاقے گنداؤ، کوئیی اور آس پاس کے گاؤں میں واقع لشکرِ اسلام کے مراکز اور مورچوں کو توپ کے گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول ابھی تک کسی کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بارے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق مراکز اور مورچوں میں موجود مسلح افراد روپوش ہوگئے ہیں۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ تحصیل باڑہ میں پانچ ہزار کے قریب اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے جبکہ بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور توپخانے کو بھی علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل باڑہ میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جس کے بعد بازار اور دیگر حکومت دفاتر بند ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ صوبہ سرحد کی حکومت نے باڑہ اور پشاور کے درمیان واقع تمام سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ہے جبکہ ان راستوں کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

علاقے میں توپخانے کو بھی پہنچا دیا گیا ہے(فائل فوٹو)

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں منگل باغ کی سربراہی میں قائم مقامی شدت پسند تنظیم لشکرِ اسلام کے خلاف آپریشن ایک ایسے وقت شروع کردیا ہے جب وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس قسم کے بیانات سامنے آئے تھے کہ پشاور کے مضافات میں واقع علاقوں میں مبینہ عسکریت پسندوں نے شہر کا ایک قسم کا گھیراؤ کیا ہے۔حکومت نےاس سلسلے میں پشاور میں آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

تحصیل باڑہ پر لشکر اسلام کے قبضے کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کی عملداری تقریباً خحتم ہوچکی تھی اور منگل باغ کے مسلح حامیوں نے چند دن قبل پشاور میں گھس کر مسیحی برادری کے سولہ افراد کو اغواء کیا تھا جنہیں بارہ گھنٹے کے بعد بازیاب کروا لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
دو دھماکوں میں دو ہلاک
23 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد