BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ آپریشن جاری رہے گا: پاک فوج

دھماکہ
دھماکوں کے بعد فوج نے اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں: آئی ایس پی آر
پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسکے مقاصد حاصل نہیں کرلیے جاتے۔

بیت اللہ محسود کی تحریک طالبان پاکستان نے پیر کو ڈیرہ اسماعیل خان کےہسپتال کے اندر اور بدھ کو اسلام آباد کے قریب دفاعی اسلحہ ساز ادارے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے باہر ہوئے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ یہ حملے باجوڑ ایجنسی میں جاری فوجی کارروائی کا ردعمل ہے۔ تنظیم نے آپریشن بند نہ ہونے کی صورت میں ایسے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ ان دھماکوں کے بعد فوج نے اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کی ہے۔

جمعہ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آپریشن کے اغراض و مقاصد میں جب تک کامیابی نہیں ہوجاتی آپریشن جاری رہتا ہے اور یہ آپریشن بھی جاری رہے گا جب تک کہ جو بھی ہدف مقرر ہیں وہ مکمل نہیں ہوجاتے۔‘

فوجی ترجمان نے ان اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں جاری کارروائی کا بنیادی مقصد علاقے میں حکومت کی رٹ قائم کرنا اور وہاں موجود ان عسکریت پسندوں کو ختم کرنا ہے جو فوجی کارروائی کے خلاف مسلح مزاحمت اور حملے کررہے ہیں۔

دریں اثناء افغانستان میں تعینات اتحادی افواج انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی شب ایساف کے اہلکاروں نے پاکستانی علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر توپخانے سے کئی گولے داغے۔

بیان کے مطابق یہ کارروائی پاکستانی فوج کے اشتراک سے کی گئی۔ ’پاکستانی فوج نے تصدیق کی تھی کہ سرحد پار پاکستانی علاقے میں بھاری ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسند جمع ہوئے ہیں اور وہ افغانستان کے صوبے پکتیکا میں موجود ایساف کے فوجی اڈے پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔‘

اتحادی افواج کے بیان کے مطابق پاکستانی افواج نے ایساف سے کہا تھا کہ اپنے علاقے میں وہ ان عسکریت پسندوں کو مصروف رکھیں گی تاکہ وہ بھاگنے نہ پائیں۔

’پاکستانی افسران نے بتایا کہ تمام گولے ہدف پر لگے اور کسی عام شہری کی ہلاکت نہیں ہوئی۔‘

تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ ایساف اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتی کہ اس کارروائی میں کتنے عسکریت پسند مارے گئے کیونکہ وہ پاکستانی علاقے میں تھے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اس کارروائی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد