پاکستان کو شورش کا سامنا: بریفِنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے متعلق حکام نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ ملک کو امن و امان کا نہیں بلکہ ایک شورش کا سامنا ہے اور اس میں غیرملکی ہاتھ ملوث ہیں۔ ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر سرحداویس احمد غنی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا حبیب اللہ اور صوبے کے پولیس سربراہ ملک نوید نے صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی بننے کے سات سال بعد پاکستان کے اعلی حکام نے پہلی مرتبہ پشاور کے تقریباً تیس سے زائد صحافیوں کو ان تمام باتوں میں شریک کیا ہے جنہیں آج تک شاید ہی اتنی تفصیل، واضح اور باریک انداز میں بیان کیا گیا ہو۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں صحافیوں کو ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اس دوران سوالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا حبیب اللہ نے عسکریت پسندی کے اقسام، اسباب، مقاصد، حکمت عملی، مالی ذرائع اور اس سے ملک کو درپیش خطرات اور چیلنجز پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ یہ بات کہی کہ پاکستان کو امن و امان کا نہیں بلکہ ایک شورش کا سامنا ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے امن و امان اور شورش کے درمیان موجود فرق واضح کرنے کی کوشش کی۔ حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ امن و امان کی خرابی میں’سماج دشمن عناصر‘ کا ہاتھ ہوتا ہے جن کا مقصد محض ذاتی یا محدود گروہی مفادات حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ شورش ایک ناراض گروپ کی ان کاروائیوں کو کہا جاتا ہے جو ایک علاقے پر قبضہ کرکے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے قبائلی ایجنیسوں اورصوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقوں میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کو بطور مثال پیش کیا جو وہاں پر اپنی مرضی کی حکومت کرتے ہوئے سزائیں اور ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ پاکستان میں عسکریت پسندی کا ظہور عسکریت پسندوں کی قسمیں دوسرے قسم کو پاکستانی طالبان کہا جاسکتا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غریب اور پسماندہ طبقے سے ہے جو بندوق اٹھاکر اپنی ناراضگی اور محرومیوں کا اظہار اس عمل کا حصہ بن کر کر رہے ہیں۔ جبکہ جرائم پیشہ افراد طالبان کی تیسری قسم ہے جو طالبان کے صفوں میں گھس کر اپنی وارداتیں کر رہے ہیں۔ عسکریت پسندوں کے مقاصد عسکریت پسندوں کی خصوصیات کسی بھی عسکریت پسند کو اگر علاقہ بدر کیا بھی جائے تو وہ باجوڑ سے منتقل ہوکر جنوبی وزیرستان میں سکونت اختیار کرلیتا ہے جہاں وہ بڑے آرام کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہے۔ عسکریت پسندوں کے باہمی روابط اور حکمت عملی ان کے بقول یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک عسکریت پسند جب فون پربات کرتا ہے تو ان کا فون نمبر باجوڑ کا پتہ دیگا لیکن وہ دراصل جنوبی وزیرستان سے بات کر رہا ہوگا۔ ان کے مطابق عسکریت پسندوں کے پاس انتہائی جدید قسم کی چِپس موجود ہیں۔ عسکریت پسندوں کی حکمت عملی کے بارے میں ایڈیشنل چیف سکیریٹری فاٹا کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ لوگ ان جگہوں پر پہلے قبضہ کریں گا جہاں حکومتی عملداری کمزور ہوتی ہے۔ سوات میں گٹ پیوچار جیسے علاقوں کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ عسکریت پسندوں کے مالی ذرائع افغانستان کا مسئلہ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان طویل سرحد کی وجہ سے افغانستان کی بدامنی پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔ اس موقع پر پولیس سربراہ ملک نوید نے ایک انگریز لکھاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ’ اگر افغانستان میں کوئی شخص بخار میں مبتلا ہوتا ہے تو چھینک پاکستان کے قبائلی علاقے میں آباد کسی دوسرے شخص کو آئے گی۔‘ عسکریت پسندی سے پاکستان کو درپیش خطرات و خدشات انہوں نے اعتراف کیا کہ پہلے حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی اور اب بھی سکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان بد اعتمادی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں اور فوج کے اعلی حکام کے قتل ہوجانے کے باوجود عوام اب بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں حکومت کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ، افغان طالبان ، ازبک اور چیچن جنگجو سرگرمِ عمل ہیں۔ تقریب کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئےگورنر سرحد اویس احمد غنی نے صحافیوں کو ایک قسم کا پریس ایڈوائس دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگجوؤں کو زیادہ کوریج نہ دیں بلکہ بونیر میں مقامی لشکر نے جنگجوؤں کو قتل کرنے کا جو اقدام کیا اس قسم کے اقدامات کو اچھے طریقے سے لوگوں کے سامنے پیش کرلیا کریں۔ |
اسی بارے میں مہمند میں طالبان کی باہمی جھڑپ19 July, 2008 | پاکستان مزید اقدامات کریں: رائس25 July, 2008 | پاکستان آئی ایس آئی میں طالبان نہیں:شیری01 August, 2008 | پاکستان پاک: امریکی تنقید کا نشانہ کیوں؟03 August, 2008 | پاکستان مزید سکول جلےاور ہلاکتوں کے دعوے04 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں طالبان یا غیر ملکی؟05 August, 2008 | پاکستان طالبان کے خلاف قبائل متحد ہو گئے18 July, 2008 | پاکستان ’باجوڑ میں گولہ باری، آٹھ ہلاک‘14 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||