BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2008, 21:14 GMT 02:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کو شورش کا سامنا: بریفِنگ

بریفنگ: ایران، سعودی، روس اور افغانستان پاکستان کے حالات میں ملوث ہیں

پاکستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے متعلق حکام نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ ملک کو امن و امان کا نہیں بلکہ ایک شورش کا سامنا ہے اور اس میں غیرملکی ہاتھ ملوث ہیں۔

ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر سرحداویس احمد غنی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا حبیب اللہ اور صوبے کے پولیس سربراہ ملک نوید نے صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی بننے کے سات سال بعد پاکستان کے اعلی حکام نے پہلی مرتبہ پشاور کے تقریباً تیس سے زائد صحافیوں کو ان تمام باتوں میں شریک کیا ہے جنہیں آج تک شاید ہی اتنی تفصیل، واضح اور باریک انداز میں بیان کیا گیا ہو۔

تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں صحافیوں کو ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اس دوران سوالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا حبیب اللہ نے عسکریت پسندی کے اقسام، اسباب، مقاصد، حکمت عملی، مالی ذرائع اور اس سے ملک کو درپیش خطرات اور چیلنجز پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔

انہوں نے پہلی مرتبہ یہ بات کہی کہ پاکستان کو امن و امان کا نہیں بلکہ ایک شورش کا سامنا ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے امن و امان اور شورش کے درمیان موجود فرق واضح کرنے کی کوشش کی۔

حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ امن و امان کی خرابی میں’سماج دشمن عناصر‘ کا ہاتھ ہوتا ہے جن کا مقصد محض ذاتی یا محدود گروہی مفادات حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ شورش ایک ناراض گروپ کی ان کاروائیوں کو کہا جاتا ہے جو ایک علاقے پر قبضہ کرکے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے قبائلی ایجنیسوں اورصوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقوں میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کو بطور مثال پیش کیا جو وہاں پر اپنی مرضی کی حکومت کرتے ہوئے سزائیں اور ٹیکس وصول کرتے ہیں۔

پاکستان میں عسکریت پسندی کا ظہور
قبائلی علاقوں کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حبیب اللہ نے پاکستان میں عسکریت پسندی کے ظہور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی اور پاکستان کا اس کا ساتھ دینا اس کا نقطہ آغاز تھا تاہم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جامعہ حفصہ اور لا ل مسجد کے خلاف آپریشن نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے بعد بقول ان کے ملک میں عسکریت پسندی کی وارداتوں میں شدت آئی ہے۔

عسکریت پسندوں کی قسمیں
ایڈیشنل چیف سکریٹری حبیب اللہ نے اپنے خطاب کے دوران طالبان کی تین قسمیں بیان کی۔ ان کے بقول عسکریت پسندی میں ملوث ایک قسم کےطالبان ان جنگجؤوں پر مشتمل ہیں جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیا اور آج اسی سوچ و فکر کے مطابق یہاں پر بھی مصروفِ عمل ہیں۔

دوسرے قسم کو پاکستانی طالبان کہا جاسکتا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غریب اور پسماندہ طبقے سے ہے جو بندوق اٹھاکر اپنی ناراضگی اور محرومیوں کا اظہار اس عمل کا حصہ بن کر کر رہے ہیں۔ جبکہ جرائم پیشہ افراد طالبان کی تیسری قسم ہے جو طالبان کے صفوں میں گھس کر اپنی وارداتیں کر رہے ہیں۔

عسکریت پسندوں کے مقاصد
حبییب اللہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کا مقصد امریکہ کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا کرنا، سکیورٹی فورسز پر حملے کرکے ان کے مورال کو پست کرنا اور اپنی غربت اور محرومیوں کا بدلہ لینا ہے۔

عسکریت پسندوں کی خصوصیات
عسکریت پسندوں کی ذاتی خصوصیات کے بارے میں حبییب اللہ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند کا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے خاندان والوں کے لیے ایک اجنبی شخص ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے گھر والوں کی اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے پولٹیکل انتظامیہ اجتماعی اور علاقائی ذمہ داری کے تحت قابو نہیں کر سکتی۔

کسی بھی عسکریت پسند کو اگر علاقہ بدر کیا بھی جائے تو وہ باجوڑ سے منتقل ہوکر جنوبی وزیرستان میں سکونت اختیار کرلیتا ہے جہاں وہ بڑے آرام کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہے۔

عسکریت پسندوں کے باہمی روابط اور حکمت عملی
اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند انتہائی تربیت یافتہ اور پُرعزم ہوتے ہیں۔انہیں حیران کن حد تک حکومت کی تمام پالیسیوں اور حکمت عملیوں کا پتہ ہوتا ہے۔ان کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے پولیس سربراہ ملک نوید نے کہا کہ عسکریت پسند آپس میں رابطہ کے لیے جو سسٹم استعمال کر رہے ہیں وہ انتہائی جدید ہوتا ہے۔

ان کے بقول یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک عسکریت پسند جب فون پربات کرتا ہے تو ان کا فون نمبر باجوڑ کا پتہ دیگا لیکن وہ دراصل جنوبی وزیرستان سے بات کر رہا ہوگا۔ ان کے مطابق عسکریت پسندوں کے پاس انتہائی جدید قسم کی چِپس موجود ہیں۔

عسکریت پسندوں کی حکمت عملی کے بارے میں ایڈیشنل چیف سکیریٹری فاٹا کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ لوگ ان جگہوں پر پہلے قبضہ کریں گا جہاں حکومتی عملداری کمزور ہوتی ہے۔ سوات میں گٹ پیوچار جیسے علاقوں کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔

عسکریت پسندوں کے مالی ذرائع
حبیب اللہ خان نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کو بیرونی ممالک سے پیسہ مل رہا جو انہیں افغانستان کے راستے ہی ملتا ہے۔

افغانستان کا مسئلہ
ایڈیشنل چیف سیکرٹری حبیب اللہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں پوست کی کاشت اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سرحد کے آر پار عسکریت پسندی کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کی ترانوے فیصد افیون افغانستان میں پیدا ہو رہا ہے جس سے ڈرگ مافیا کوسالانہ چار بلین ڈالر ہاتھ آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان طویل سرحد کی وجہ سے افغانستان کی بدامنی پاکستان کے قبائلی علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔ اس موقع پر پولیس سربراہ ملک نوید نے ایک انگریز لکھاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ’ اگر افغانستان میں کوئی شخص بخار میں مبتلا ہوتا ہے تو چھینک پاکستان کے قبائلی علاقے میں آباد کسی دوسرے شخص کو آئے گی۔‘

عسکریت پسندی سے پاکستان کو درپیش خطرات و خدشات
حبیب اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ عسکریت پسندوں کی وجہ سے پاکستان کی خود مختاری خطرے میں پڑ گئی ہے اور اگر پاکستان پر کسی بھی بیرونی ملک کی طرف سے حملہ ہوتا ہے تو وہ امریکہ ہوگا جو قبائلی علاقوں کی طرف سے حملہ کرے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پہلے حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی اور اب بھی سکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان بد اعتمادی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں اور فوج کے اعلی حکام کے قتل ہوجانے کے باوجود عوام اب بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں حکومت کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ، افغان طالبان ، ازبک اور چیچن جنگجو سرگرمِ عمل ہیں۔

تقریب کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئےگورنر سرحد اویس احمد غنی نے صحافیوں کو ایک قسم کا پریس ایڈوائس دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگجوؤں کو زیادہ کوریج نہ دیں بلکہ بونیر میں مقامی لشکر نے جنگجوؤں کو قتل کرنے کا جو اقدام کیا اس قسم کے اقدامات کو اچھے طریقے سے لوگوں کے سامنے پیش کرلیا کریں۔

امریکی حکمت عملی
امریکی توجہ افغانستان سے پاکستان پر
طالبانپنجاب میں طالبان؟
طالبان کے کوٹ ادو میں دھمکی آمیز خطوط
آگےدیوارپیچھےگڑھا
آئی ایس آئی اور گیلانی حکومت کی مشکل
’امریکی الزام تراشی‘
موقع اور مناسبت کچھ اور معنی بیان کرتے ہیں
طالبائزیشن کے خلاف مہم کا آغازطالبان سےہوشیار
کراچی میں طالبانئزیشن کے خلاف مہم شروع
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی کرنے پر مجبور لوگ باجوڑ سے نقل مکانی
باجوڑ کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور
اسی بارے میں
مزید اقدامات کریں: رائس
25 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد