BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 August, 2008, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: پانچ اہلکار، چودہ طالبان ہلاک

باجوڑ
قبائلی جرگے نے دس دن قبل ہلاک کیے جانے والے چودہ اہلکاروں کی لاشیں حکام کے حوالے کی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق طالبان اور سکیورٹی فوسز کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران پانچ اہلکار اور چودہ طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف قبائلی جرگے نے تقریباً دس دن قبل سکیورٹی فورسز کے ہلاک کیے جانے والے چودہ اہلکاروں کی لاشیں اکھٹی کر کے حکام کے حوالے کی ہیں۔

دریں اثنا تحریک طالبان نے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری کارروائی کا ردعمل ہے۔

باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر اور منگل کی شب مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً تیس کلومیٹر دور ناوگئی سکاوٹس قلعہ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ان کے بقول سکیورٹی فورسز کے جوابی حملے میں کئی طالبان ہلاک ہوگئے ہیں تاہم وہ مرنے والوں کی حتمی تعداد نہیں بتا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں پانچ اہلکار بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے چودہ عسکریت پسندوں کی لاشیں دیکھی ہیں جنہیں بعد میں طالبان اپنے ساتھ لے گئے۔ اس سلسلے میں طالبان کا موقف جاننے کے لیے تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر سے رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

دوسری طرف ایک قبائلی جرگے نے منگل کی صبح ان چودہ اہلکاروں کی لاشیں اکھٹی کی ہیں جو دس دن قبل ایک جھڑپ کے دوران مارے گئے تھے۔

جرگے میں شامل ایک قبائلی مشر نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان سے رابطے کے بعد انہوں نے لوئی سم اور خانہ ڈاگ جاکر سکیورٹی فورسز کے چودہ اہلکاروں کی لاشیں اکھٹی کی ہیں۔

ان کے بقول لاشیں مختلف مقامات پر پڑی ہوئی تھیں جو بری طرح مسخ ہوگئی تھیں۔ ان کے بقول انہوں نے لاشیں باجوڑ سکاوٹس کے حکام کے حوالے کردی ہیں۔

 آج ڈیرہ اسماعیل خان کا خودکش حملہ طالبان کی جانب سے مستقبل میں صوبہ سرحد اور دیگر علاقوں میں ہونے والی ممکنہ کارروائیوں کی ابتداء ہے۔
مولوی عمر

اس سے ایک ہفتے قبل بھی جرگے نے اسی علاقے سے سکیورٹی فورسز کے سات اہلکاروں کی لاشیں اٹھاکر حکام کے حواکے کی تھیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ منگل کے روز بھی سکیورٹی فورسز نے ڈمہ ڈولہ، بدان، حاجی لونگ، عنایت قلعہ، صدیق آباد اور آس پاس کے علاقوں کو گن شپ ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ تاہم اس میں ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں پہنچی ہے۔

تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والا خودکش حملہ طالبان نے کیا ہے۔ ان کے بقول’ آج ڈیرہ اسماعیل خان کا خودکش حملہ طالبان کی جانب سے مستقبل میں صوبہ سرحد اور دیگر علاقوں میں ہونے والی ممکنہ کارروائیوں کی ابتداء ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر حکومت نے باجوڑ اور سوات میں جاری اپنی کارروائیاں نہیں روکیں تو وہ معطل کی گئی اپنی سرگرمیاں دوبار شروع کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’پرویز مشرف مستعفی تو ہوگئے مگر ان کی پالیسیاں جاری ہیں اور جب تک ان کی پالیسیاں ترک نہیں کی جائیں گی ہم اپنی کاروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

اسی بارے میں
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد