BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2008, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ نقل مکانی میں اکثریت بچے

باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی
پشاور میں واقع چارسدہ اڈہ اس وقت ایک مہاجر کیمپ کا منظر پیش کررہا ہے

قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی امداد میں مصروف رضا کاروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جاری جھڑپوں کی سب سے بڑی قیمت خواتین اور بچے ادا کررہے ہیں کیونکہ ہجرت کرنے والوں میں سے زیادہ تعداد ان خواتین اور بچوں کی ہے جو بغیر کسی سرپرست کے نقل مکانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں واقع چارسدہ اڈہ اس وقت ایک مہاجر کیمپ کا منظر پیش کررہا ہے جہاں پر سواری کم اور باجوڑ سے ہجرت کرنے والے کی تعداد زیادہ ہے۔ ہجرت کرنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور چھوٹے بچوں کی ہے جنہیں اڈے کےمختلف برآمدوں قناتیں لگا کر بٹھادیا گیا ہے۔

ہرطرف میلے کچیلے کپڑوں پہنے ہوئے بچے اور شٹل کاک برقعوں میں ملبوس خواتین نظر آرہی ہیں۔ بچوں کے رونے اور ماؤں کو انہیں خاموش کرنے کی التجائی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف کونے میں ان مہاجرین کے لیے چاول کی دیگ چڑھائی گئی ہے اور ساتھ میں سڑک کے کنارے ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے کئی افراد ان کے خوراک و رہائش کے لیے لاؤڈ سپیکروں پر لوگوں سے چندہ وصول کررہے ہیں۔

چارسدہ اڈے کے سوزوکی اور ٹیکسی ڈرائیور کئی دنوں سے اپنا کام چھوڑ کر ان مہاجرین کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔

خواتین اور بچوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ایک برآمدے میں داخل ہوا تو شیرخوار بچے ماؤں کی گود میں بلک رہے تھے جبکہ باقی بچے مایوس چہرے لیے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

بڑی مشکلوں سے بعض خواتین کو بات کرنے پر راضی کیا تو ان میں ایک ادھیڑ عمر خاتون نے بتایا کہ یہاں پرتقریباً دو سو خواتین و بچے ہیں جن میں سے بعض ایک علاوہ باقی سب کے ساتھ کوئی مرد نہیں آیا ہے۔

ان کے بقول ’ہمارے مرد زیادہ تر کراچی میں محنت مزدوری کرنے کے لیے گئے ہیں جب بمباری میں شدت آئی تو ہم ان سے رابطہ کیے بغیر گھروں میں سارا سامان چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نکل آئے۔‘

انہوں نے مزید کہا’یہاں پر ہمیں کھانا تو دیا جارہا ہے۔لیکن کب تک اس ماحول میں پڑے رہیں گے۔ہمارے پاس نہ پیسہ ہے اور نہ ہی کوئی اور آسرا۔‘

اب میں ان سے بات ہی کررہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت لپک کر میری طرف بھاگ کے آئی اور روتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے پھر ہم پر کیوں بمباری کی جارہی ہے۔ میں اپنا بوڑھا شوہر گھر میں چھوڑ کر اپنے گھر کے پچاس افراد جن میں ایک سترہ سالہ بچے کے علاوہ باقی سبھی خواتین اور چھوٹے بچے ہیں نقل مکانی ہر مجبور ہوئی ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اعلان کرکے علاقہ چھوڑنے کو کہا لیکن جب ہم پیدل روانہ ہوئے’تو طالبان نے ہمیں رو ک کر جانے نہیں دیا پھر ہم خفیہ پہاڑی راستوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔پیدل چلتے ہوئے ہم سب کے پاؤں کا چمڑا اتر گیا ہے۔‘

میں نے پاس روتی ہوئی خاتون سے بات کرنا چاہی تو بتایا گیا کہ وہ بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ان کے بچے باجوڑ میں ہی رہ گئے ہیں۔ایک اور خاتون روتے ہوئے آگے بڑھی اور میرے پوچھنے پر گویا ہوئی’اس بات پر رو رہی ہوں کہ یہ دیکھو میرے بچے رو رہے ہیں بھوکے پیاسے ہیں مگر میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میرے ساتھ کوئی مرد نہیں آیا ہے وہ کراچی میں محنت مزدوری کررہا ہے۔‘

وہ مزید کہنے لگی۔’علاقے میں شدید بمباری ہورہی تھی رات کے وقت ہم غاروں میں پناہ لیتے تھے اور دن کو گھر کے کونے کھدروں میں پڑے رہتے تھے۔ کھانے پینے کی کوئی چیز میسر نہیں تھی۔‘

یہ پشاور کے چارسدہ اڈہ میں مقیم صرف دو سو مہاجرین کی کہانی ہے۔صوبہ سرحد کے ضلع دیر، پشاور، مردان، چارسدہ اور دیگر علاقوں میں باجوڑ کے نو لاکھ کی آبادی میں سے بے یار و مدد گار پڑے تقریباً تین لاکھ لوگوں کی داستان بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد