باجوڑ میں’جنگ بندی‘ کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں نے دعوٰی کیا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن میں عورتوں اور بچوں سمیت تین سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رہنماؤں نے متاثرہ علاقے میں پھنسے ہزاروں لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اتوار کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ممبر قومی اسمبلی انجینئر شوکت اللہ نے کہا کہ فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے حکومت نے نہ تو ان سے کوئی مشاورت کی اور نہ ہی علاقے کے لوگوں کو پہلے سے کوئی اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن میں جیٹ جہازوں سے بمباری سمیت طاقت کا بھر پور استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے باجوڑ ایجنسی کی دس لاکھ آبادی میں سے اسّی فیصد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے جبکہ باقی علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور نہ ہی اب تک آپریشن سے متاثرہ لوگوں کو کسی قسم کی کوئی امداد پہنچائی گئی ہے ۔ انجینئر شوکت اللہ نے دعوٰی کیا کہ اب تک آپریشن میں کم سے کم تین سو سے زائد عام لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ کو معاوضہ دیا جائے اور زخمیوں کو فوری طور پر علاقے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اس موقع پر قبائلی علاقوں کے سیاسی رہنماؤں نے حکومت اور مقامی طالبان سے مطالبہ کیا کہ باجوڑ ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو اٹھانے اور زخمیوں اور محصور ہو جانے والے لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے فریقین کی طرف سے تین روزہ جنگ بندی کا فوری اعلان کیا جائے۔
باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مولانا عبدالرشید نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر حکومت تین روزہ جنگ بندی کے مطالبے پر عمل نہیں کرتی تو صدر مشرف کے مواخذے کےلیے قبائلی علاقوں کے سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے اراکین نے حکومت کی حمایت کا جو اعلان کر رکھا ہے اس پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ اس مسئلہ پر ان کو قبائلی علاقوں کے تمام سیاسی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے ۔ باجوڑ ایجنسی کے ممبر قومی اسمبلی سید آخون ذادہ چٹان نے پریس کانفرس میں کہا کہ وہ حکومت کے پاس جانے کی بجائے پریس کانفرس اس لیے کر رہے ہیں کہ پاکستان میں کچھ مسائل ایسے ہیں جن کو حل کرنے کا اختیار جہموری حکومت کو حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف سمیت جس کسی نے بھی یہ اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ان کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ واضح رہے کہ چند روز پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ باجوڑ ایجنسی میں فوجی آپریشن غیر ملکی عناصر کے خلاف کیا جا رہا ہے اور باجوڑ میں فوجی آپریشن شروع کیئے جانے سے قبل قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ارکان کو فوج کے اعلٰی افسران نے بریفنگ دی تھی۔ | اسی بارے میں پاکستان کو شورش کا سامنا: بریفِنگ15 August, 2008 | پاکستان ’آپریشن غیر ملکی عناصر کے خلاف‘15 August, 2008 | پاکستان سوات:سکول، سی ڈیز مارکیٹ تباہ15 August, 2008 | پاکستان ’باجوڑ میں گولہ باری، آٹھ ہلاک‘14 August, 2008 | پاکستان باجوڑ کے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور13 August, 2008 | پاکستان خاراور لوئی سم پر طالبان کا قبضہ ختم12 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||