BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خلیج گوانتانامو: کوائف اکٹھے کر رہے ہیں‘

قوی اسمبلی
’اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2005-2004 میں زرعی پیداوار 7ء6 فیصد رہی جبکہ 2007-2006 کے دوران 7ء3 فیصد ہو گئی‘
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ حکومت گوانتانامو بے میں قید پاکستانیوں کی تعداد اور کوائف کے بارے میں تفصیلات جمع کر رہی ہے اور ایوان کس اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی انجینئر خرم دستگیر خان کے تحریری سوال کے جواب میں بتائی۔ انہوں نے خلیج گوانتانامو کے جیل خانے میں قید پاکستانیوں کی کل تعداد، نام، پتے، عرصہ حراست اور ان افراد کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے کیے گئے اقدامات کے بارے میں پوچھا تھا۔

وزیر خارجہ نے اس کے جواب میں ایوان کو صرف اتنا بتایا کہ کیوبا میں قائم امریکی قید خانے میں موجود پاکستانیوں کے بارے میں مطلوبہ معلومات واشنگٹن ڈی سی میں واقع پاکستان کے سفارتخانے سے اکٹھی کی جارہی ہیں اور موصول ہوتے ہی ایوان کے سامنے پیش کر دی جائیں گی۔

آبادی میں اضافہ
 پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبادی کی شرح جو 70 اور 80 کی دہائی میں تین فیصد سالانہ کے تناسب سے تاریخ کی بلند ترین شرح تھی اب کم ہوکر 8ء1 فیصد ہوگئی ہے
وزیر بہبود آبادی

چند روز قبل خارجہ امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ خلیج گوانتانامو کے حراستی مرکز میں اس وقت سات پاکستانی قید ہیں جن تک رسائی کے سلسلے میں کمیٹی کے چئرمین مشاہد حسین سید کی سربراہی میں ایک وفد اس مہینے امریکہ کا دورہ کرے گا۔

قومی اسمبلی کو ایک اور سوال کے جواب میں وزیر بہبود آبادی نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آبادی کی شرح جو 70 اور 80 کی دہائی میں تین فیصد سالانہ کے تناسب سے تاریخ کی بلند ترین شرح تھی اب کم ہوکر 8ء1 فیصد ہوگئی ہے۔

’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کی نومبر 2006ء کی رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کی شرح سال 2007-2006 میں 9ء1 فیصد تھی اور 2008-2007 کے معاشی جائزے کے مطابق یہ کم ہوکر 8ء1 رہ گئی ہے۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ڈیموگرافک اور ہیلتھ سروے2007ء کے مطابق عالمی سطح پر لوگوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور 97 فیصد آبادی کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی حاصل ہے۔

برڈ فلو
 ملک میں ایوین انفلوئنزا کے پھوٹنے کی اطلاع آخری بار اس سال 17 جون کو صوابی کے ایک مرغی فارم کے بارے میں ملی تھی اور 2008-2007 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 22 مرتبہ برڈ فلو کا مرض پھوٹنے کی تصدیق کی گئی
نذر محمد گوندل
ان کے مطابق 80ء کی دہائی میں مجموعی طور پر خواتین میں بچے جنم دینے کی اوسطاً صلاحیت چھ بچے فی عورت تھی جو کہ اب کم ہوکر چار بچے فی خاتون رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی ضرورت کم ہو کر پچیس فیصد رہ گئی ہے جو کہ 2003ء میں تقریباً 33 فیصد ہوا کرتی تھی۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی فوزیہ وہاب کے ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت شیری رحمن نے بتایا کہ پاکستان میں انسانی آبادی میں بڑے پیمانے پر برڈ فلو کے پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

وزیر خوراک، زراعت اور لائیو اسٹاک نذر محمد گوندل نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں ایوین انفلوئنزا کے پھوٹنے کی اطلاع آخری بار اس سال 17 جون کو صوابی کے ایک مرغی فارم کے بارے میں ملی تھی اور 2008-2007 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 22 مرتبہ برڈ فلو کا مرض پھوٹنے کی تصدیق کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتیں مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور برڈ فلو کی تشخیص اور پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

بینظیر کا قتل اور ہنگامے
 سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد صوبہ سندھ میں ہونےوالے ہنگاموں کے دوران نذر آتش ہونے والے 61 ریلوے اسٹیشنوں کی بحالی کے لئے پی سی ون کی منظوری دیدی گئی ہے اور اس پر رواں مالی سال میں کام شروع ہوجائے گا جس کے لئے سات کروڑ بیالیس لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے
وزیر ریلوے
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں زرعی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے اور سال 2005-2004 میں 7ء6 فیصد زرعی پیداوار کے مقابلے میں 2007-2006 کے دوران زرعی پیداوار صرف 7ء3 فیصد رہی۔

نذر محمد گوندل نے ایوان کو بتایا کہ اسکی ایک وجہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور شدید بارشیں تھیں۔

وزیر ریلوے نے ایوان کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد صوبہ سندھ میں ہونےوالے ہنگاموں کے دوران نذر آتش ہونے والے 61 ریلوے اسٹیشنوں کی بحالی کے لئے پی سی ون کی منظوری دیدی گئی ہے اور اس پر رواں مالی سال میں کام شروع ہوجائے گا جس کے لئے سات کروڑ بیالیس لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد صرف ڈیڑھ سال کے اندر غیرملکی دوروں پر ساڑھے تیس کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی۔

حنیف عباسی نے سوال کیا تھا کہ پندرہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے اکتیس دسمبر دو ہزار دو کے دوران صدر مملکت کن کن ممالک کا دورہ کیا اور ان پر کتنی رقم خرچ ہوئی۔

وزیر خارجہ نے تحریری طور پر ایوان کو بتایا کہ سابق صدر محمد رفیق تارڑ نے اپنی مدت صدارت کے دوران بیرون ملک کوئی سرکاری دورہ نہیں کیا۔

البتہ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ڈیڑھ سال کے اندر امریکہ، بھارت، برطانیہ، فرانس، ترکی، سعودی عرب اور چین سمیت پندرہ ممالک کے دورے کئے۔ جن میں سب سے زیادہ رقم امریکہ اور برطانیہ کے دوروں پر خرچ ہوئی جو پندرہ کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد