قومی اسمبلی، کشمیر کمیٹی تشکیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں بےگناہ افراد کی ہلاکت اور علاقے میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے پاکستان کی قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں قانون اور پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر فاروق ایچ نائیک نے معمول کی کارروائی روک کر ایوان میں اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنانے کی قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیٹی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نہ صرف نوٹس لے گی بلکہ اس علاقے میں معصوم افراد کی ہلاکتوں کے بارے میں عالمی برادری کو آگاہ کرے گی۔ اس کمیٹی کے ارکان میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے اور ان میں اہم سیاسی رہنما بھی شامل ہیں، جن میں جمعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مخدوم امین فہیم کے علاوہ پیر افتاب جیلانی، چوہدری امتیاز وڑائچ، نواب یوسف تالپور، نبیل احمد گھبول، رمیش لعل، فیض ٹمن، شیخ افتاب احمد، انور علی چیمہ، حیدر عباس رضوی، خرم دستگیر، افضل سندھو، غلام مصطفی شاہ، مولانا عبدالرحمن اور طالب نکئی شامل ہیں۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس لیے عالمی برادری نہ صرف اس کے حل کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے بلکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ قرارداد میں کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کی بھی سفارش کی گئی۔ |
اسی بارے میں دنیا کشمیر کا نوٹس لے: پاکستان13 August, 2008 | پاکستان لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششیں14 August, 2008 | پاکستان کشمیر: ہلاکتوں پر ہر جگہ ماتم 16 August, 2008 | انڈیا سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ18 August, 2008 | انڈیا کشمیر:’اقوام متحدہ مداخلت کرے‘18 August, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||