سرینگر: دسیوں ہزاروں کا مارچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرکے مختلف شہروں سے دسیوں ہزاروں لوگ سرینگر میں واقع اقوام متحدہ یعنی یو این کے فوجی مبصرین کے دفتر کے باہر جمع ہورہے ہیں، جہاں سے علیحدگی پسند گروپوں کے قائدین مشترکہ طور پر ان مبصرین کو کشمیر میں یو این کی مداخلت کا مطالبہ پیش کرینگے۔ ’یواین مارچ‘ کی یہ کال اتوار کو حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ نے مشترکہ طور پر دی تھی۔ سوموار کو صبح سے ہی وادی کے مختلف شہروں سے بڑی اور چھوٹی گاڑیوں میں لوگوں کے قافلے سیاہ اور سبز پرچم لہراتے اور نعرے بازی کرتے ہوئے اجتماع کے مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس دوران شمالی کشمیر سے آرہی ایک ایسی ہی گاڑی کو پٹن کے قریب حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم بیس افراد زخمی ہوگئے۔ یہ اجتماع سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس جگہ پر ہونے کے سبب یہاں بھاری تعداد میں نیم فوجی عملے کو تعینات کیا گیا ہے۔ بعض نوجوان حریت کارکنوں نے آج صبح نو بجکر پینتالیس منٹ پر یواین آفس میں پہلی قرار داد پیش کی۔ حکام کے بعض افسروں نے اتوار کے روز مسٹر گیلانی اور میرواعظ عمر کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ لوگوں کو یو این فوجی مبصرین کی قیام گاہ سے دور جمع کریں۔ واضح رہے اقوام متحدہ کی مداخلت کا یہ اجتماعی مطالبہ گیارہ اگست کو شروع کی گئی ’مظفرآباد چلو‘ تحریک کے سلسلے میں ہورہا۔ یہ تحریک جموں کے بعض ہندو انتہا پسند گروپوں کی طرف سے کشمیریوں اور جموں کی مسلم آبادیوں کی ناکہ بندی کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں سرینگر میں’ یو این چلو‘ مہم17 August, 2008 | انڈیا 13 مظاہرین ہلاک، کرفیو جاری12 August, 2008 | انڈیا شیخ عزیز ہلاک، سرینگر میں کرفیو 11 August, 2008 | انڈیا مظفرآبادمارچ: دو ہلاک، ستّر زخمی 11 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ کا حل نکل آئے گا: پاٹل10 August, 2008 | انڈیا زمین تنازعہ: سری نگر میں مذاکرات10 August, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||