BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 August, 2008, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآبادمارچ: دو ہلاک، ستّر زخمی

سی آر پی ایف کی طرف سے خالی کرائی گی فروٹ منڈی
بڑی تعداد میں افراد مظفرآباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کررہے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کی جانب مارچ کرنے والے افراد پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور ستّر زخمی ہوگئے ہیں۔

مظفرآباد روڈ کی طرف مارچ کرنے والے قافلوں پر پولیس اور سی آر پی ایف نے فائرنگ کی ہے اور اس تازہ واقعہ کے بعد کشمیر میں حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔

شمالی کشمیر کے سنگرامہ، رفیع آباد اور سوپور ، جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان اور سرینگر کے قمرواری علاقوں میں پولیس نے عوامی جلوس کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں نوجوان مشتعل ہوگئے اور تصادم کے دوران پولیس نے فائرنگ کی۔

پچھلے کئی ہفتوں سے جموں سے اشیائے ضرورت کی درآمد اور سرینگر۔جموں شاہراہ پر میوہ ٹرکوں کی نقل وحمل معطل ہونے کے خلاف وادی کے میوہ تاجروں نےعلیٰحدگی پسند گروپوں کی حمایت سے اس مارچ کا اہتمام کیا تھا۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ بھی اتوار کو ایک کل جماعتی وفد کے ہمراہ سرینگر پہنچے اور یہاں انہوں نے’مظفرآباد چلو‘ پروگرام کو ایک ’غلط اقدام‘ قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ میوہ تاجروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائےگا اور ٹرکوں کی بحفاظت نقل و حمل کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے لیکن میوہ تاجروں نے مارچ کی کال واپس نہیں لی۔

 شمالی کشمیر کے سنگرامہ، رفیع آباد اور سوپور ، جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان اور سرینگر کے قمرواری علاقوں میں پولیس نے عوامی جلوس کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں نوجوان مشتعل ہوگئے اور تصادم کے دوران پولیس نے فائرنگ کی

پولیس نے اتوار کی شب میوہ تاجروں کی انجمنوں کے مقامی لیڈروں کو حراست میں لے لیا اور سید علی گیلانی و میرواعظ عمر فاروق سمیت کئی لیڈروں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا تاہم شبیر احمد شاہ سوموار کی صبح سوپور پہنچے جہاں مقامی فروٹ منڈی میں میوہ سے لدی درجنوں گاڑیوں کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔

سوپور کی فروٹ منڈی میں موجود ہزاروں لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا، لیکن لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ اس دوران سنگرامہ سے سوپور آرہے ایک جلوس کی پیش قدمی روکنے کے دوران بھی فائرنگ ہوئی ، جس میں ایک مقامی نوجوان نذیر احمد ہلاک ہوگیا۔

چنانچہ لوگوں نے نذیر کی لاش ایک چارپائی پر اُٹھا کر بارہ مولہ کی طرف پیش قدمی کی۔ جلوس میں خواتین اور بچوں کی بھی بھاری تعداد شامل تھی اور یہ لوگ پاکستان، آزادی اور مظفرآباد روڑ کی بحالی کے حق نعرے بازی کررہے تھے۔

ادھر سرینگر کی مقامی قمرواری فروٹ منڈی کو اتوار کی شب ہی پولیس نے سیل کر دیا تھا اور فروٹ گروسر ایسوسی ایشن کے کئی عہدیداروں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا۔

تاہم پائیں شہر سے سوموار کی صبح ہزاروں کی تعداد میں لوگ فروٹ منڈی کی طرف روانہ ہوئے۔ جلوس میں شامل عاشق حسین نے بتایا کہ جلوس کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن لوگ آگے بڑھتے گئے، جس پر پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے جلوس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں کئی افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے باوجود جلوس اوڑی کی طرف روانہ ہوا۔

م‍قامی پولیس اور سی آر پی ایف نے مارچ کرنے والوں پر فائرنگ کی ہے

جنوبی اضلاع پلوامہ اور شوپیان سے بھی میوہ تاجروں کی قیادت میں بھاری تعداد میں ٹرکوں کے قافلے نکلے لیکن پولیس نے سرینگر کی طرف ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ شوپیاں کے معروف میوہ تاجر میر محمد امین نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ شوپیاں کے مختلف دیہات سے جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ جلوس کی صورت میں باہر نکلے تو پولیس اور سی آرپی ایف نے ہیف گاؤں کے قریب قافلے پر فائرنگ کی اور کئی افراد کو زخمی کردیا۔

پلوامہ کے رہائشی نثارالحق نے بتایا کہ’میوہ سے لدے تین سو ٹرک جب سرینگر کی طرف روانہ ہوئے تو پورے قصبہ میں پولیس اور سی آر پی ایف نے اندھا دھند لاٹھی چارج کیا، یہاں تک کہ مقامی کیبل ٹی وی چینلوں کے کیمرہ مین بھی زخمی ہوگئے۔‘ مسٹر حق کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد پولیس ایکشن کے خلاف جامع مسجد کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئی۔

اس دوران سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں منتقل کیے جانے والے زخمیوں میں سے قمرواری کا ایک نوجوان اشفاق احمد کھنہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔اشفاق کی ہلاکت پر لوگ مشتعل ہوگئے اور پولیس نے ہسپتال کے احاطے میں بھی آنسوگیس پھینکی۔

واضح رہے مختلف علاقوں سے زخمیوں کی بھاری تعداد یہاں منتقل کی گئی ہے۔ ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹر سلیم اقبال نے بی بی سی کوبتایا کہ ’ہم لوگ انتہائی مشکل میں ہیں کیونکہ ایک طرف ہسپتال میں ضروری ادویات کا سٹاک ختم ہورہا ہے اور دوسری طرف پولیس نے شعبۂ حادثات میں بھی آنسو گیس پھینکی ہے‘۔

ڈاکڑ اقبال کا کہنا ہے کہ ستّر زخمیوں میں اکثر کوگولی لگی ہے جن میں سے چار کی حالت نازک ہے کیونکہ ان کے سر میں گولی لگی ہے۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد