BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 August, 2008, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امرناتھ: تعطل ختم، مذاکرات

احتجاج(فائل فوٹو)
جموں شہر ميں کرفیوں ميں نرمی نہيں دی گئی ہے لیکن احتجاج ابھی بھی جاری ہے
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کے تنازعہ کے حل کے لیے کل جماعتی وفد اور شری امرناتھ سنگھرش سمیتی کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کی صبح وزیر داخلہ شیوراج پاٹل کی سربراہی میں اٹھارہ سیاسی جماعتوں کا ایک وفد سنگھرش سمیتی کے اہلکاروں سے مذاکرات کے لیے جموں پہنچا تھا لیکن سمیتی نے وفد میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ اور کانگریس پارٹی کے رہنما سیف الدین سوز کی موجودگی کے سبب بات چیت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سنگھرش سمیتی کا کہنا تھا کہ یہی رہمنا زمین تنازعہ کے لیے ذمہ دار ہيں اس لیے ان رہمناؤں کی شراکت والے وفد سے مذاکرات کرنا ممکن نہیں ہے۔

بعد ازاں سنگھرش سمیتی کے اس رویے کے پیش نظر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہمنا محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر وہ ایسا چاہتے ہيں تو کشمیری رہمنا اس بات چیت میں شامل نہيں ہوں گے۔ محبوبہ مفتی کے اس بیان کے بعد سنگھرش سمیتی کل جماعتی وفد سے مذاکرات کرنے کے لیے راضی ہوگي۔ بات چیت ابھی ابتدائي مرحلے میں ہے۔

سنیچر کی صبح کل جماعتی وفد نے جموں پہنچنے کے بعد جموں راج بھون ميں گورنر این این ووہرا سے بات چیت کی تھی۔

وزیر اعظم کی رہائش گارہ پر کل جماعتی میٹنگ (فائل فوٹو)
گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی
ادھر جموں شہر ميں کرفیوں ميں نرمی نہيں دی گئی ہے لیکن باوجود اس کے مظاہرین کئی مقامات پر اکٹھا ہوئے ہيں۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر امرناتھ زمین تنازعہ کے حل کے لیے ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ایک کل جماعتی وفد جموں اور کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

ادھر اٹھارہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل وفد کے جموں پہنچنے سے قبل سنگھرش سمیتی نے زمین کے حصول کے لیے احتجاج کی مدت 14 اگست تک بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ سنگھرش سیمتی جموں ميں کئی ہفتوں سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔

سنگھرش سمیتی کا کہنا رہا ہے کہ مذاکرات سے متعلق انہيں کوئی اعتراض نہيں ہے، لیکن زمین کی واپسی کے مطالبے کو ترک کر دینے جیسے معاہدے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازعے کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریباً تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں کا سنگم ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد