BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 July, 2008, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شرائن بورڈ تنازعہ: ہڑتال کا ساتواں دن

جموں (فائل فوٹو)
زمین منتقلی کے خلاف مظاہرے گزشتہ یکم جولائی سے جاری ہیں اور اب تک اس میں 2 افراد ہلاک اور تقریبا تین سو زخمی ہو چکے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کمشیر کے جموں شہر میں امرناتھ شرائن کومنتقل کی جانے والی زمین کی واپسی کے خلاف مسلسل ساتوے روز بھی مکمل ہڑتال ہے۔

اس درمیان حکومت نے ہڑتال کرنے والوں سے مذاکرات کی دعوت دی ہے تاکہ تنازعہ کا مناسب حل نکالا جاسکے۔

صوبے کے داخلہ سیکریٹری انل گوسوامی اور ڈائرکٹر جنرن آف پولیس کلدیپ کھوڈا نے امرناتھ شرائن بورڈ کے لیے زمین کا مطالبہ کرنے والی تنظیم امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کے نمائندوں سے ملاقات کر کے ایک خط دیا اور بات چیت کی دعوت دی ہے۔

دونوں سرکاری افسروں نے سنگھرش سمیتی کے نمائندوں سے تقریبا آدھے گھنٹے تک بات کی لیکن یہ افسران ملاقات کے بعد میڈیا سے بغیر بات کیے ہی واپس چلے گیے۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی کے کنوینر لیلا کرن شرما نے میڈیا کو بتایا کہ افسران نے گورنر کی ایما پر بات چیت کی دعوت دی ہے اور وہ اس دعوت کا خير مقدم کرتے ہیں۔’ ہم نے حکام سے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے ساز گار ماحول پیدا کیا جائے۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مظاہرے کے دوران جنہيں گرفتار کیا گيا ہے انہيں رہا کیا جا‏ئے۔‘

شرما کا کہنا ہے’سمیتی کے تمام ارکین اس دعوت پر تبادلہ خیال کریں گے اور پھر فیصلہ کريں گے۔‘

بدھ کو ہڑتال کے سبب دکانیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے اور بینک بند ہيں

بدھ کو ہڑتال کے سبب دکانیں، تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے اور بینک بند ہيں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی بہت کم تعداد ميں لوگ آئے ہيں۔

جموں شہر کے کئی مقامات پرزبردست مظاہرے کیے گیے ہیں، ساتھ ہی جموں خطے کے بعض ہندو اکثریت والے علاقے ميں بھی بدھ کو مظاہرے کیے گیے ہيں۔

امرناتھ سنگھرش سمیتی تقریبا تیس سماجی اور مذہبی تنظیموں کا سنگم ہے۔اس تنظیم میں بھاریتہ جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ ان کا مقصد شرائن بورڈ سے واپس لی گئی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہرے کا آغاز اس وقت ہوا جب گذشتہ بدھ کو ایک 20 سالہ نوجوان کلدیپ کمار ڈوگرا نے شرائن بورڈ کے لیے زمین کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی غرض سے خودکشی کر لی تھی۔

واضح رہے کہ زمین منتقلی کے خلاف مظاہرے گزشتہ یکم جولائی سے جاری ہیں اور اب تک اس میں دو افراد ہلاک اور تقریبا تین سو زخمی ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد