شرائن بورڈ تنازعہ: جموں میں کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کمشیر کے شہر جموں میں امراناتھ شرائن کومنتقل کی جانے والی زمین کی واپسی کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک شخص کی خود کشی کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی جس پر مقامی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ جموں کے ڈویژنل کمشنر سدھنشو پانڈے نے کہا کہ کلدیپ کمار کی خود کشی کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل جانے کی وجہ سے ایک روز کرفیو نافذ کر دیا گیا اور اگر ضرورت محسوس کی گئی تو اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ سری نگر اور کشمیر کے دوسرے علاقوں میں شدید احتجاج کے بعد حکومت نے اُس متنازعہ حکم نامے کو کالعدم قرار دیا تھا جس کی رو سے شرائن بورڑ کو بال تل کے مقام پر آٹھ سو کنال زمین منتقل کی گئی تھی۔ حکومتی فیصلے کے خلاف جموں خطے میں بی جے پی اور اس کی حلیف سخت گیر ہندو جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی تھی اور آٹھ روز کی مسلسل ہڑتال کے بعد بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ اطلاعات کے مطابق کلدیپ کمار نے ہڑتالی کیمپ میں جذباتی تقریرکرتے ہوئے کہ امرناتھ شرائن کے لیے زمین واپس لینے کے لیے قربانیوں کی ضرورت ہے اور وہ سب سے پہلے قربانی دیں گے۔ کلدیپ کمار اپنی تقریر کے دوران گرگئے اور ہسپتال لیجاتے ہوئے وفات پا گئے۔ سخت گیر ہندو جماعتوں نے کلدیپ کمار کی لاش ہڑتالی کیمپ میں رکھ دی جس سے لوگوں میں اشتعال پھیل گیا اور شدید نعرہ بازی شروع ہو گئی اور مشتعل ہجوم نے بازاروں کو بند کروانا شروع کر دیا۔ | اسی بارے میں شرائن بورڈ تنازعہ، وزیراعلٰی مستعفی07 July, 2008 | انڈیا جموں میں حالات کشیدہ،کرفیو نافذ02 July, 2008 | انڈیا کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس01 July, 2008 | انڈیا کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا زمین کی واپسی پر ہندؤوں کا احتجاج30 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||