BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: شرائن بورڈ سے زمین واپس

زائرین
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے زمین کے منتقلی کی منسوخی کے مطالبے پر اقتدار سے الگ ہو چکی ہے
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کی کابینہ نے اُس متنازعہ حکم نامے کو کالعدم قرار دیا ہے جس کی رو سے شرائن بورڑ کو بال تل کے مقام پر آٹھ سو کنال زمین منتقل کی گئی تھی۔ تاہم اس دوران جموں خطے میں بی جے پی اور اس کی حلیف سخت گیر ہندو جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔
منگل کو تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے کابینہ کےاجلاس کے بعد صوبائی وزیر عبدالغنی وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کی آٹھ سو کنال زمین پر اب امرناتھ شرائن بورڑ کا کوئی اختیار نہیں ہوگا، کیونکہ اسے محکمہ سیاحت کے سپرد کیا جائے گا ، اور یہی محکمہ یاتریوں کے لیے سفری سہولیات تعمیر کرنے کا مجاز ہوگا۔

پچھلے نو روز سے پورے کشمیر میں شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرنے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔

اس احتجاج کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں پانچ افراد ہلاک اور ساڑھے چھ سو زخمی ہوگئے تھے۔ اس دوران تعلیمی، کاروباری اور سرکاری انتظامیہ کی سرگرمیاں معطل رہنے کے باعث عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی۔

قربانی کا نتیجہ
 زمین کو شرائن بورڑ سے واپس لے کر سرکاری ملکیت میں لایا گیا ہے، یہ دراصل عوام اور عوام کی قربانیوں کی جیت ہے۔ ہم باقاعدہ حکمنامے کا جائزہ لے کر لوگوں سے معمول کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اپیل کرینگے
میرواعظ عمر فاروق، حریت لیڈر

منگل کے روز بھی زمین کی منتقلی کے خلاف بننے والی ایکشن کمیٹی نے پوری وادی کے لوگوں کو سرینگر میں واقع تاریخی جامع مسجد آنے کی کال دی تھی، جس کے رد عمل میں حکومت نے شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا ہے، تاہم شمالی اور جنوبی کشمیر میں جلوس نکالے گئے جنہیں جامع مسجد آنے سے روکا گیا۔

اس دوران علیحدگی پسند رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ اور محمد یٰسین ملک کو اپنے گھروں میں ہی نظر بند رکھا گیا، تاہم سید علی گیلانی پولیس کو چکمہ دے کر جامع مسجد پہنچے جہاں انہوں نے سات ہزار کے مجمع سے خطاب کیا۔

سرکاری فیصلہ پر ابھی تک ایکشن کمیٹی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ میر واعظ عمرفاروق کا اصرار ہے کہ جب زمین کی منتقلی کے فیصلہ کو رد کیے جانے سے متعلق تحریری شواہد سامنے آئینگے تو وہ عوام سے احتجاجی تحریک ختم کرنے کی اپیل کرینگے۔

یاد رہے اتوار کو کشمیر کے نئے گورنر این این ووہرا نے ، جو مقامی قانون کی رو سے شرائن بورڑ کے سربراہ ہیں، وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کو ایک خط کے ذریعہ بورڑ کو دی گئی بال تل کی آٹھ سو کنال زمین سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی۔ گورنر نے یاترا کے سبھی امور کی نگرانی کے لئے ریاستی حکومت کو حتمی اختیارات دے دیئے تھے۔

کشمیری سکھ
کشمیری سکھ بھی احتجاج میں شریک تھے

لیکن علیٰحدگی پسند قیادت اور ایکشن کمیٹی نے اس فیصلے کو ناکافی بتا کر احتجاج جاری رکھنے اور منگل کو ’جامع مسجد‘ چلو کی کال دی تھی۔

منگل کی صبح پوری وادی میں پولیس اور نیم فوجی عملے نے ناکہ بندی کر رکھی تھی اور دو سے زائد افراد کے اکھٹے چلنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

پولیس نے میرواعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک اور دیگر لیڈروں کوگھروں میں نظر بند کیا ہواتھا لیکن ایکشن کمیٹی کے سربراہ میاں عبدالقیوم اور سینئر علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی جامع مسجد پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’ زمین کو شرائن بورڑ سے واپس لے کر سرکاری ملکیت میں لایا گیا ہے، یہ دراصل عوام کی قربانیوں کی جیت ہے۔ ہم باقاعدہ حکمنامہ کا جائزہ لے کر لوگوں سے معمول کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اپیل کرینگے۔‘

قابل ذکر ہے کہ پائین شہر میں جامع مسجد کی طرف جانے والے کئی جلوسوں پر پولیس نے اشک آور گولے داغے، جس کے نتیجہ میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔سینئر پولیس افسر بشیر احمد خان نے بتایا کہ،’اگر ہم ایسا نہ کرتے تو مشتعل نوجوان آگے جاکر تشدد برپا کرتے۔‘

جموں میں حالات
جموں میں بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق پرانے جموں میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں جس کے سبب حکام نے کرفیو نافذ کردیا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ مظاہرین نے تقریباً دو درجن سے زیادہ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

پولیس کے مطابق اسے جموں خطے کے مٹھی علاقے میں اس وقت گولی چلانی پڑی جب مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کرنے لگے۔ اس واقعہ میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جموں شہر کے علاوہ جموں خطے میں کٹھوا، ادھم پور، سمبا اور کود جیسے قصبوں ميں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی تصادم ہوا ہے۔

پولیس نےمظاہروں پر قابو پانے کے لیے جموں خطے کے مختلف حصوں سے تقریباً سو مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔

جموں ہڑتال کا اعلان ہندو نواز سیاسی جماعتیں بھاریتہ جنتا پارٹی، شیوسینا اور وشو ہندؤ پریشد کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور سیاسی تنظیموں نے کیا ہے۔

فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
ہندو سادھو’شِو کہاں ہے؟‘
امرناتھ یاترا تنازعہ کا باعث بن گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد