کشمیر میں حُکمراں اتحاد ٹوٹ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی مخلوط حکومت میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی شرائن بورڑ کو منتقل کی گئی زمین کا حکم نامہ منسوخ کرنے کے مطالبہ پر اقتدار سے الگ ہوگئی ہے۔ پی ڈی پی کی حکومت سے علیٰحدگی کے بعد ستاسی رُکنی ریاستی اسمبلی میں کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کی حکومت اپنے اکیس ارکان اسمبلی اور گیارہ حمایتیوں کے باوجود اقلیت میں آگئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چھ روز سے پوری وادی میں ہندوؤں کو جنگلاتی اراضی کی منتقلی سے متعلق سرکاری حکمنامے کی منسوخی کے حق میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک پانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ سنیچر کی شام اپنی سرکاری رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران پی ڈی پی کی صدر، محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ’ہم نے چونکہ تیس تاریخ تک کا وقت دیا تھا، لیکن ہلاکتوں کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری ہے، لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مسٹر آزاد کی حکومت کا حصہ نہیں بنے رہیں گے‘۔
بعد ازاں حکومت میں شامل پی ڈی پی کے بعض وزراء نے حال میں ریاستی گورنر کا منصب سنبھالنے والے ہندوستان کے سابق ہوم سیکریٹری نریندر ناتھ ووہرا کو حمایت واپس لینے سے متعلق پارٹی کا مکتوب اور اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست میں اس طرح کا آئینی بحران ایک ایسے وقت پیدا ہوگیا ہے جب اسمبلی کی مدتِ کار میں صرف اڑھائی ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کے حکومت سے الگ ہونے کے بعد اب ریاست میں حکومت کا قائم رکھنے کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو گورنر غلام نبی آزاد کو طلب کر کے انہیں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کو کہیں یا پھرانتخابات میں بہت کم وقت کے پیش نظر انہیں نگراں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کا حکم دیں۔ ایک تیسرا راستہ یہ ہے کہ وہ ریاست میں گورنر راج کی سفارش کریں۔ زمین کی منتقلی کا یہ قضیہ چھبیس مئی کو اُس وقت سامنے آیا تھا جب ریاستی حکومت کے کابینہ اجلاس میں امرناتھ شرائن بورڑ کو آٹھ سو کنال زمین کی منتقلی کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتے کی پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ ’ہم لوگ اس فیصلے میں شریک تھے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگ اخلاقی طور اس بات کے پابند تھے، کہ جس فیصلہ کی وجہ سے پورا کشمیر جل رہا ہے، اسے بدلنے کے لیے اقدام کریں۔ چونکہ مسٹر آزاد نے ہمارے مطالبے پر دھیان نہ دیا سو ہم حکومت سے الگ ہوگئے‘۔ یاد رہے کہ سنہ دو ہزار دو میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں تین تین سال تک اقتدار میں رہنے کے معاہدے کی شرط پر پی ڈی پی اور کانگریس نے بعض آزاد امیدواروں کی حمایت سے حکومت قائم کی تھی اور |
اسی بارے میں کشمیر:پرتشدد جھڑپیں، مظاہرین پر فائرنگ28 June, 2008 | انڈیا ’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘23 June, 2008 | انڈیا کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟29 June, 2006 | انڈیا پانچ ہندو عقیدت مند زخمی 21 June, 2006 | انڈیا امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘19 June, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||