’یاترا کا انتظام مقامی پنڈت کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندو ستان کے زير انتظام کشمیر میں امرناتھ یاتر کی منتظم ادارے امرناتھ شرائن بورڑ کی طرف سے حصولِ اراضی کے خلاف علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے مطالبہ کیا ہے کہ امرناتھ یاترا کے انتظامی اختیارات غیر مقامی ہندوؤں کے بجائے مقامی پنڈتوں کو دیے جائیں۔ سید علی گیلانی نے یہ بات پیر کو علیحدگی پسندوں کی مشترکہ مہم کے دوران کہی ہے۔ مطالبے کے حق میں گیلانی کی قیادت میں پیر کے روز پائین شہر سے ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا، جسے منتشر کرنے کے لئے پولیس نے اشک آور گیس کے گولے داغے۔ پولیس کی کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جن کی تعداد گیلانی نے اسّی بتائی۔ پولیس نے درجنوں نوجوانوں کو’احتیاطی حراست‘ میں بھی لے لیا۔ جلوس کا اہتمام گیلانی نے حکومت کی طرف سے ہندوؤں کے شرائن بورڑ کو آٹھ سو کنال زمین کی منتقلی کے خلاف کیا تھا۔ میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے بھی اس کال کی حمایت کی تھی، لیکن پولیس نے پیر کی صبح ہی شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان اور جاوید احمد میر کو گھروں میں نظربند کر دیا۔ علی گیلانی اور ان کے بعض ساتھی اتوار کی شام ہی سے گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئے تھے۔ احتجاجی جلوس کے سلسلے میں گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کے حمایتی پائین شہر میں دریائے جہلم کے کنارے واقع قدیم ترین خانقاہوں میں شمار خانقاہ معلیٰ کے صحن میں جمع ہوگئے۔ اس موقع پر پولیس اور گیلانی کے بعض حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔
گیلانی نے بعد ازاں جلوس کی قیادت کی۔ جب جلوس گاؤکدل کے قریب پہنچا تو پولیس نے اُس ٹرک پر پے درپے اشک آور گیس کے گولے داغے جس کی جبین پر اٹھتر سالہ گیلانی سوار تھے۔ تاہم انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔ لیکن متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ جلوس دوسرا راستہ اختیار کرتے ہوئے جہانگیر چوک پہنچا جہاں مسٹر گیلانی نے تقریر کی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ امرناتھ یاترا کے انتظامی اختیارات مقامی کشمیری پنڈت شہریوں کو تفویض کیے جائیں۔ اور شرائن بورڑ کو تحلیل کر کے اسے الاٹ کردہ زمین واپس لی جائے۔ ان کا کہنا تھا’کشمیر کی زمین جیسی ہماری ویسی ہی سکھ اور پنڈت شہریوں کی بھی ہے۔ ہم چاہیں گے کہ امرناتھ کی پوجا اور یاترا کی دیکھ ریکھ کا کام مقامی پنڈتوں کو تفویض کیا جائے۔‘ اس دوران پاکستان سے بائیس روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد سرینگر لوٹے لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے بھی پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ’امرناتھ یاترا تو صدیوں سے کشمیر کے ہندومسلم بھائی چارہ کی علامت ہے۔ یہاں صرف پندرہ دن کی یاترا ہوتی تھی، جس کی دیکھ ریکھ مقامی مسلمانوں کا ملک خاندان کرتا تھا اور انہیں یاترا کی آمدن کا تینتیس فی صد ملتا تھا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’ہم وہی بھائی چارہ واپس چاہتے ہیں۔ جس طرح شرائن بورڑ کام کررہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ یاترا کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے۔‘ یٰسین ملک نے اس سلسلے میں کشمیر کی مختلف علیٰحدگی پسند جماعتوں، تجارتی انجمنوں اور انسانی حقوق اداروں کے اشتراک سے بنی ایک مزاحمتی کمیٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا، اور ساتھ ہی متنبہ کیا کہ اگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا، تو وہ غیر معینہ عرصہ تک بھوک ہڑتال کرینگے۔ |
اسی بارے میں کشمیر: زمینوں کے حصول سے تنازع 22 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا، بھگڈر سے’تین ہلاک‘ 19 June, 2008 | انڈیا امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟29 June, 2006 | انڈیا امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘19 June, 2006 | انڈیا جموں بس حادثہ، کم از کم 25 ہلاک18 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں دستی بم کا حملہ12 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||