امرناتھ یاترا، بھگڈر سے’تین ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں امرناتھ یاترا کے دوران بھگدڑ مچنے سے ایک خاتون سمیت کم از کم تین یاتریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بھگدرڑ مچنے کے بعد مختصر عرصے کے لیے یاترا کو معطل کر دیا گیا۔ سرکاری طور پر صرف ایک ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم مغربی بنگال کے آنند باسو نامی ایک یاتری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تین یاتریوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ آنند باسو کے مطابق جمعرات کی صبح یاتریوں کی بڑی تعداد بال تل اور پہلگام کے راستوں سے امرناتھ گھپا کے درشن کی خاطر روانہ ہوئی تو شیش ناگ کے مقام پر ہجوم میں بھگڈر مچ گئی جس دوران وینکٹیش نامی یاتری سمیت دو عقیدتمند دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جبکہ ممبئی کی رہائشی انشو کی موت حرکت قلب بند ہونے کے سبب ہوئي ہے۔ سی آر پی ایف کے ترجمان پربھاکر ترپاٹھی کا کہنا ہے ’درشن کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی جلدی میں بھگڈر مچی اور اس وجہ سے کئی افراد دم گھٹنے کے باعث بے ہوش ہوگئے جن میں سے ایک یاتری کی موت واقع ہوگئی‘۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں تعینات یاترا انتظامیہ سے منسلک ایک افسر منظور احمد نے بتایا کہ بھگڈر کے بعد پہلگام کے راستے سے یاترا کو کچھ دیر کے لیے معطل کردیا گیا۔ ترپاٹھی کے مطابق یاترا پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے، تاہم غار کے گرد و نواح میں لوگوں کی تعداد کو قابو کرنے کے لیے نافذ ضوابط کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یاترا کے نگراں ادارے امرناتھ شرائن بورڈ کے مطابق بدھ سے دو ماہ کے لیے شروع ہونے والی اس یاترا کے پہلے دو روز میں پچیس ہزار سے زائد ہندو عقیدت مندوں نے غار میں بھگوان کے برفانی آکار کے درشن کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں امرناتھ یاترا پر تنازعہ14 June, 2008 | انڈیا یاتریوں پر بم حملہ، تیرہ زخمی21 July, 2007 | انڈیا شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟29 June, 2006 | انڈیا امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘19 June, 2006 | انڈیا جموں بس حادثہ، کم از کم 25 ہلاک18 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں دستی بم کا حملہ12 June, 2006 | انڈیا کشمیر میں سیاحوں کی واپسی31 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||