شِیو لنگ اصلی ہے یا نقلی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کےگورنر نے اس بات کی تفتیش کے احکامات دیئے ہیں کہ اس بار امرناتھ کے غار میں مصنوعی شیولنگ رکھا گیا ہے یا وہ قدرتی طور پر تیار ہوا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ ہر برس بھگوان شیوا کی قوت سے منسوب ’شِو لنگ‘ قدرتی طور پر بنتا ہے لیکن اس سال یہ خبر آئی تھی کہ لنگم پوری طرح نہیں بن پایا تھا اور اس کی جگہ ایک مصنوعی لنگم تیار کیا گیا ہے۔ اس کی نگرانی کرنے والے ایک مہنت نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ جموں کشمیر کے گورنر ایس کے سنہا نے ہائی کورٹ کے ایک سبکدوش جج کے کے گپتا کو اس پورے معاملے کی تفتیش کے احکامات جاری کیئے ہیں۔ مسٹر سنہا ’امرناتھ شرائن‘ کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس سے پہلے ’امرناتھ شرائن‘ کے بورڈ نے ان الزمات کی سختی سے تردید کی تھی۔ ہندو مذہب میں امرناتھ گپھا کی بڑی اہمیت ہے۔ ہر برس ہزاروں عقیدت مند اس موسم میں اس غار کی زیارت کرتے ہیں۔ امرناتھ گپھا جنوبی کشمیر میں ہمالیائی سلسلے میں تقریباً چار ہزار میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مئی اور جون کے مہینے میں برف پگھلنے کے سبب اس گپھا میں ہندوؤں کے دیوتا بھگوان شِیو کی قوت سے منسوب ایک برفانی مجسمہ (شِیو لنگم) تیار ہوتا ہے۔
اس پورے معاملے کے منظر عام پر آنے سے یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آخر’شیو لنگ‘ کی صورت کیوں بدلتی رہتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ کے سبب برف کے جمنے کا عمل متاثر ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ برف سے تیار ہونے والا لنگم اس بار پہلے جیسے بڑے سائز کا نہیں بن پایا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق گزشتہ برس تقریباً چار لاکھ عقیدت مندوں نے امرناتھ غار کی زیارت کی تھی۔ حکام کے مطابق اس برس اس تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ ہر برس زائرین کی حفاظت کے لیے حکومت کو سخت سکیورٹی انتظامات کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لیے بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں امر ناتھ یاترا اور آلودگی 25 June, 2006 | انڈیا امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘19 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||