امرناتھ یاترا: ’شِو لنگم کہاں ہے؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی علاقے کے ہمالیائی سلسلے میں تین ہزار آٹھ سو اٹھاسی میٹر کی بلندی پر واقع گپھا میں ہندووں کے دیوتا بھگوان شِو کی قوت سے منسوب برفانی مجسمہ (شِو لنگم) تنازعہ کا باعث بن گیا ہے۔ ان خبروں کے بعد کہ گپھا میں امسال لنگم نہیں بن پایا تھا اور اس کی جگہ ایک مصنوعی ڈھانچہ رکھا گیا، امرناتھ یاترا کے بیس سال سے نگران مہنت دیپیندر گری نے معاملے کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ مہنت گری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شو لنگم ہر سال برف پگھلنے کے ساتھ قدرتی طور پر وجود میں آتا ہے اور اگر اسے کیمیائی مدد سے خود بنانے کی کوشش ہورہی ہے تو ’پوِتر گپھا کا اپمان (بے عزتی ) ہوا ہے‘۔ پانچ سال قبل قائم کیئے گئے امر ناتھ شرائن بورڈ کے ترجمان ارون کمار نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ امسال لنگم کی بناوٹ معمول کے مطابق نہ رہنے کی وجہ سے لنگم کا حُجم قدرے کم تھا۔ ترجمان نے ان افواہوں کی تردید کی ہے جن کے مطابق بورڈ نے لنگم نہ بننے کے پیش نظر یاترا ملتوی کرنے کی بجائے گپھا میں مصنوعی لنگم نصب کر دیا ہے۔ امرناتھ شرائن بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ارون کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ مئی کے مہینےمیں گپھا کے تفصیلی سروے سے معلوم ہوا تھا کہ برف کے کم جمنے کی وجہ سے اس بار لنگم کی بناوٹ ’تسّلی بخش نہیں ہوگی‘۔
مسٹر کمار ریاستی گورنر اور شرائن بورڈ کے سربراہ ریٹائیرڈ لیفٹننٹ جنرل ایس کے سنہا کے پرنسپل سیکریٹری بھی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ’ کئی مرکزی اداروں کی مدد سے ہم نے چودہ سے اٹھارہ مئی تک گپھا کا سیٹلائٹ سروے کیا۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برف کے جمنے کا عمل متاثر ہو گیا ہے اس لیئے برفانی لنگم کے روایتی سائز کا بہت کم امکان ہے۔ مصنوعی لنگم کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں‘۔ مسٹر کمار نے مزید بتایا کہ لنگم کا چھوٹا سائز دیکھ کر کسی نے اس پر برف چڑھانے کی کوشش کی ہوگی کیوں کہ پچھلے دس سال سے گپھا میں گارڈز موجود نہیں ہیں۔ جموں یونیورسٹی سے وابستہ گلیشیالوجی کے ماہر پروفیسر ایم این کول کے مطابق بیس سال قبل بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے انیس سو اسّی میں بھی چھوٹے سائز کا لنگم دیکھا تھا۔ یہ سب پہاڑ پر برف نہ جمنے اور پانی زیادہ مقدار میں بہنے کی وجہ سے ہوتا ہے‘۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ جیالوجی کے سربراہ اور ماہرارضیات ڈاکڑ ایم اسمٰعیل نے میں بی بی سی کو بتایا کہ ’پچھلے سال اکتوبر میں جموں کشمیر میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے ہمالیائی سلسلے کے بعض پہاڑوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ امرناتھ گپھا بھی متاثر ہوئی ہو‘۔ حکام کو اس سال پانچ لاکھ یاتریوں کی آمد کی توقع ہے۔ پچھلے سال چار لاکھ بارہ ہزار ہندو عقیدت مندوں نے گپھا میں شو لنگم کے درشن کیئے تھے۔ وادی میں فی الوقت موجود ہزاروں یاتریوں میں جہاں لنگم نہ بن پانے کا دکھ ہے وہیں انہیں شرائن بورڈ سے بھی شکایت ہے کہ حقیقت سے واقف ہوتے ہوئے بھی جون کے دوسرے ہفتے میں ہی یاترا کا اعلان کیا گیا۔
گجرات کے سوُرت شہر سے آئے ہوئے ایک ہندو عقیدت مند شِوداس شرما نے بتایا کہ ’اگر یہ لوگ سُوچنا (اطلاع ) دیتے کہ لنگم بننے میں دیر لگےگی تو کیا ہرج تھا۔ دیکھو کتنے لوگ مر گئے۔ کُچھ کا ایکسیڈنٹ ہوا اور کُچھ ہارٹ اٹیک سے مر گئے۔ ہم پوچھتے ہیں شٍٍو کہاں ہے‘۔ یاتری (زائرین) پہلگام سے گپھا تک پینتالیس کلو میٹر کا دشوار گزار راستہ چار دن میں مکمل کرتے ہیں۔ سونہ مرگ سے بالتل کے راستے بھی گپھا تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن اکثر یاتری پہلگام راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کشمیر میں مسلح شورش سے قبل بہت کم لوگ یاترا کے لیئے آتے تھے۔ انیس سو ترانوے میں پندرہ ہزار یاتریوں نے اس جگہ کے درشن کیئے تھے۔ یاترا کی مدّت پر بھی شرائن بورڈ کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم نئے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے یاترا کی مدّت ایک سے دو ماہ کرنے پر گورنر کے ساتھ اتفاق کر لیا ہے۔ |
اسی بارے میں برطانیہ میں مساجد06 July, 2005 | آس پاس تاجکستان میں یہودی معبد مسمار06 March, 2006 | پاکستان برطانیہ کے چرچ20 July, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||