BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 July, 2005, 00:58 GMT 05:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ کے چرچ

سینٹ مارٹن چرچ
انگلینڈ کا قدیم ترین سینٹ مارٹن چرچ جو پاپائے روم کے فرستادہ آگسٹائن نے کینٹربری میں بنوایا تھا۔
دو ہزار سال قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے نازل ہونے والا مذہب عیسائیت اسوقت دنیا کا سب سے بڑا مذہب شمار ہوتا ہے جس کے ماننے والوں کی دنیا بھر میں تعداد دو اعشاریہ دو بلین سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

برطانیہ میں بھی عیسائیت سب سے بڑا مذہب ہے جس کے مقلدین کی تعداد تیس ملین سے زیادہ ہے جن میں سے فقط کوئی چھ ملین فعال طور پر مذہب پہ کاربند ہیں۔

اکثر لوگوں کا شاید یہ خیال ہو کہ برطانیہ ہمیشہ سے عیسائیت کا حامل مذہب رہا ہے لیکن تاریخی طور پر ایسا نہیں ہے۔ اساطیری حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ سلطنت رومہ کے عہد کی پہلی صدی عہد مسیح میں برطانیہ میں مختلف مذاہب اور قدیم یونانی دیوی دیوتاؤں کے پیروکار موجود تھے اور ایسے میں ابتدائی طور پر روم سے آنے والے تاجروں اور فنکاروں نے عیسائیت کی بنیاد کے دھندلے سے نقوش چھوڑے اور یہاں کے لوگوں نے عیسائیت کو ایک جدید مذہب کے طور پر اپنانے کا آغاز کیا۔

دنیا بھر میں عیسائیوں کی تعداد دو اعشاریہ دو بلین سے زیادہ ہےاور برطانیہ میں اس کے مقلدین کی تعداد تیس ملین سے زائد ہے جن میں سے فقط کوئی چھ ملین فعال طور پر مذہب پہ کاربند ہیں۔

313 عہد مسیح میں رومن شہنشاہ کنسٹنٹائن نے سلطنت کو مربوط رکھنے کے لیے اسکے ایک صوبے برطانیہ میں عیسائیت کی عبادت کو تسلیم کر لیا اور پھر یہاں عیسائیت کے قیام کے واضع اشارے 597 عہد مسیح میں اسوقت ملتے ہیں جب آگسٹائن، پاپائے روم گریگوری کی طرف سے شاہ ایتھلبرٹ آف کینٹ کے لیے عیسائیت کا پیغام لے کرآ ئےاور یوں چرچ آف انگلینڈ کی بنیاد پڑی۔

چوتھی صدی عیسوی میں برطانیہ میں عیسائیت کے آثار کھلے بندوں نمایاں ہوئے اور پھر دسویں صدی میں یہاں کے لارڈز نے اپنی زمینوں پر چھوٹے چھوٹے چرچ بنانے اور مقامی پادریوں کو عبادت کروانے کی اجازت دی۔

برطانیہ میں عیسائیت کی ابتدا،ترویج اور فروغ کی تاریخ نہایت طویل ہے لیکن اس امر کے شواہد کہیں نہیں ملتے کہ باقاعدہ عبادت کی غرض سے پہلا چرچ کب اور کہاں بنایا گیا تھا۔

بہر حال تمام تر مصدقہ شواہد اور دستاویزات کی روشنی میں انگلینڈ میں قدیم ترین سینٹ مارٹن چرچ کے آثار بھی رومن عہد میں 597 عہد مسیح میں ہی ملتے ہیں اور اسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاپائے روم کے فرستادہ آگسٹائن نے یہ چرچ کینٹربری میں بنوایا تھا جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عبادت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

سینٹ میگنس دی مارٹر چرچ
1005میں تعمیر ہونے والا لندن کا سینٹ میگنس دی مارٹر چرچ

آج اکیسویں صدی میں بھی کینٹربری کے اس قدیم ترین چرچ کے حوالے سے انگلینڈ کی عیسائیت میں آرچ بشپ آف کینٹربری کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں برطانیہ میں بھی عیسائیت میں مسالک کی بنیاد پڑی۔اولاً یہ تقسیم قدامت پسند اور مغرب پسند عیسائیوں کے درمیان تھی جس کی مزید تقسیم در تقسیم رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی صورت میں ہوئی اور پھر ان مسالک کے الگ الگ چرچ بننے لگے۔

برطانیہ کا ایک اور قدیم ترین چرچ 1005 عیسوی میں قدیم لندن برج کے قریب بنا تھا جسے سینٹ میگنس دی مارٹر چرچ کہا جاتا ہے جسے کرسٹوفر ورن نے تعمیر کروایا تھا۔اسی طرح 1012میں تعمیر ہونے والا لندن کا St Alfegeچرچ بھی قدیم ترین کلیساؤں میں شامل ہے۔

 انگلینڈ میں قدیم ترین سینٹ مارٹن چرچ کے آثار بھی رومن عہد میں 597 عہد مسیح میں ہی ملتے ہیں اور یونیسکو نے اسے عالمی ورثے کے فہرست میں شامل کیا ہے

1150 عیسوی کا عہد وہ زمانہ ہے جب ملک بھر میں متعدد چرچ تعمیر ہوئے جن میں ڈربی شائر میں ایش فیلڈ کا قدیم ترین سینٹ ہیلن پیرش چرچ بھی شامل ہے جسکی تعمیر ایسے مقام پر ہوئی جسے عیسائیت سے قبل پاگان اپنی عبادت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اسی چرچ کے ایک کونے میں آج بھی ایک ہزار سے ڈھائی ہزار سال قبلِ مسیح میں کانسی عہد میں عبادت کے لیے استعمال ہونے والا پتھر موجود ہے۔

برطانیہ کے زیادہ تر قدیم چرچ اسوقت بھی لندن کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جن میں 1185 کا ٹمپل چرچ ہے جوسٹی آف لندن اور سٹی آف ویسٹ منسٹر کے درمیان دریائے ٹیمز پر واقع ہے اور عدلیہ کے ارکان کی سرکاری عبادت گاہ ہے۔

اسکی طرزِ تعمیر گولائی میں بنائے جانے والے چرچوں کے زمرے میں آتی ہے اور اسوقت پورے برطانیہ میں اس طرح کے صرف تین چرچ باقی ہیں۔

برطانیہ بھر میں کُل چرچ کتنے ہیں اس بارے میں اعدادوشمار اس لیے میسر نہیں کہ گزشتہ دوعشروں کے درمیان یہاں عبادت گزاروں کی تعداد میں نمایاں کمی کے باعث متعدد چرچ ختم ہوئے ہیں اور ایسے کئی چرچ مسلمانوں اور ہندؤں نے خرید کر مساجد اور مندروں میں تبدیل کیے ہیں تاہم اس کے باوجود ابھی بھی ملک بھر میں کلیساؤں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔

انگلینڈ کے علاوہ آئرلینڈ، شمالی آئرلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کے ایک سو پنتیس بڑے بڑے شہروں میں مختلف عیسائی مسالک کے چرچ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔عیسائی مسلک میتھوڈسٹ کے ہی ملک بھر میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اور لندن میں ڈھائی سو سے زیادہ چرچ ہیں۔

ویسٹ منسٹر ایبے
1734میں بننے والا لندن کامعروف جو بِگ بین اور پارلیمنٹ ہاؤس کے ساتھ واقع ہے

برطانیہ بھر میں سب سے زیادہ چرچ شاید گریٹر لندن میں ہی ہیں اور ان قدیم اور تاریخی کلیساؤں میں معروف ترین 1734 کاویسٹ منسٹر ایبے، بازنطینی طرزِ تعمیر کا شاہکار ویسٹ منسٹر کیتھیڈرل، 14ویں صدی کا چیلسی اولڈ چرچ اور1724 کے سینٹ این لائم ہاؤس چرچ کے علاوہ سینٹ جیمز چرچ، سینٹ جارج چرچ،سینٹ میری سٹرینڈ،سینٹ پال چرچ،ٹمپل چرچ اور ساؤتھ وارک کیتھیڈرل خاص طور معروف اور مقبول ہیں جنہیں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کے لیے آتی ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد