برٹنی، بیکہم فیشن: چرچ کی تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلستان اور ویلز میں رومن کیتھولک چرچ نے تسبیح کو فیشن کے طور پر استعمال کرنے پر تنقید کی ہے۔ پاپ گلوکارہ برٹنی سپئیر اور انگلستان کے فٹ بالر ڈیو بیکہم کی تسبیح پہنے ہوئے تصاویر حال میں شائع ہونے کے بعد پورے برطانیہ میں تسبیح کی فروخت زوروں پر ہے۔ کیتھولک چرچ کا کہنا ہے کہ تسبیح کے مرتبہ کو گھٹایا جارہا ہے۔ چرچ نے عبادت میں تسبیح کے استعمال پر رہنمائی کے لیے ایک پمفلٹ تقسیم کیا ہے۔ تاہم لندن کے ایک زرگر کا کہنا ہے کہ تسبیح کو اب زیادہ تر لوگ ایک فیشن کی چیز کے طور پر ہی لے رہے ہیں۔ کیتھولک چرچ کے ایک عہدیدار فادر ایلن مارس کا کہنا ہے کہ تسبیح دیکھنے میں بہت اچھی لگتی ہے لیکن یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ لوگ اسے عبادت کے بجائے صرف فیشن کے طور پر استعمال کریں۔ رومن کیتھولک مذہب میں تسبیح کو روایتی طور پر عبادت میں گنتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لندن میں ایلنگ کے علاقہ میں ایک زرگری کی دکان کی مالک آئدہ نورمن کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک سال میں تسبیح کی فروخت میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے مئی اور جون میں روایتی مذہبی موقعوں پر تسبیح کی فروخت بڑھ جاتی تھی لیکن اب پورا سال وہ جلدی سے بک جاتی ہیں۔ فادر مارس کا کہنا ہے کہ تسبیح میں صلیب بھی شامل ہوتی ہے اور اسے آرائش کے لیے پہننا عجیب بات ہے کیونکہ صلیب تشدد کی علامت ہے۔ فاد مارس کہتے ہیں کہ یہ لوگ پھانسی دینے کے لیے استعمال کی جانے والی بجلی کی کرسی کیوں نہیں پہن لیتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||