BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 February, 2005, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: چرچ کہاں کھڑا ہو گا؟

چارلس اور کمیلا
چارلس اور کمیلا دونوں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے درمیان اس وقت بھی جنسی تعلقات تھے جب وہ دونوں الگ الگ شادی شدہ زندگی گزار رہے تھے
انگریزوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ایک تو بہت کم بات کرتے ہیں اور اگر کبھی بولیں گے تو صرف موسم کی بات کریں گے۔ یہ بات اپنے دل سے نکال دیجئیے۔ آج کا انگریز خوب بولتا ہے اور موسم کی بات بالکل نہیں کرتا۔

موسم کی بات صرف ریڈیو اور ٹیلیوژن پر ہوتی ہے۔یہ ننھا سا جزیرہ جو اگر پاکستان کی گود میں بیٹھ جائے تو نوزائیدہ بچہ لگے۔ اس کے موسم کا ذکر ریڈیو ٹیلیوژن پر تین تین چار چار منٹ تک ہوتا رہتاہے۔ان کا بس نہیں چلتا کہ یہ بھی بتادیں کہ آپ کے گھر پہ کب اور کتنی بوندیں گریں گی۔ سنتے سنتے طبیعت عاجز آجاتی ہے۔

جہاں دوسری بہت سی روایتیں اس جزیرے والوں نے چھوڑی ہیں وہیں لگتا ہے کہ صاف ستھرے الیکشن کی روایت بھی اس بار مٹا دی جائے گی۔

الیکشن ابھی دور ہیں۔ اندازے لگائے جارہے ہیں کہ مئی کی پہلی جمعرات کو ہوں گے (ووٹنگ کے لیے ہمیشہ جمعرات کا دن مقرر کیا جاتا ہے) لیکن آسمان پر ابھی سے انتخابات کے بادل چھانے لگے ہیں۔ وہ بھی گہرے اور کالے بادل۔

جنوری کی پہلی تاریخ سےمعلومات کی آزادی کے اس قانون پر عمل شروع ہوا ہے جس کے تحت سرکاری فائلیں عوام کے سامنے کھولنی ضروری ہیں۔

فائلیں کھل رہی ہیں اور ان میں حزب مخالف کنزرویٹیو پارٹی کے وزیراعظم جان میجر کے زمانے میں ستمبر انیس سو بانوے کے ’منحوس بدھوار‘ کے کاغذات بھی ہیں۔ اس دن سٹے بازی نے پونڈ کا وہ برا حال کیا تھا کہ اسے اس گرہن سے نکالنے کے لیے خزانے کو تین اعشاریہ تین بلین پونڈ خرچ کرنے پڑے اور برطانیہ کو یورپی یونین کے شرح تبادلہ کے نظام سے باہر نکلنا پڑا تھا۔

چارلس چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ کیسے؟
 اگر چارلس ایک دن تخت نشین ہوجائیں گے تو وہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کیسے بنیں گے کیونکہ چارلس اور کمیلا پارکر بولز دونوں اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کے درمیان اس زمانے میں جنسی تعلقات تھے جب وہ الگ الگ شادی شدہ تھے۔

سابق وزیر اعظم جان میجر کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سوچا تھا کہ استعفادے دوں۔ یہ دن کنزرویٹیو کی سترہ سال کی حکومت کا منحوس ترین دن سمجھا جاتا ہے اور اب لیبر پارٹی ووٹروں کے دل میں یہ بات ڈالنا چاہتی ہے کہ اگر کنزرویٹو دوبارہ آ گئے تو کہیں پھر سے ایسی کوئی مصیبت سروں پر نہ آن پڑے۔

کنزرویٹو کہہ رہے ہیں کہ کیچڑ اچھالی جا رہی ہے اور انہوں نے بھی سو درخواستیں ان فائلوں کو دیکھنے کے لیے دے دی ہیں جن میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کی بیوی شیری کے پیسے کے لین دین کے بارے میں ڈھکی چھپی معلومات مل سکتی ہیں۔

یہ وہ ہفتہ تھا جس میں ٹونی بلیئر نے اپنی وزارت کے دو ہزار تین سو اڑتیس دن پورے کیے۔ اس سے پہلے کسی لیبر وزیراعظم نے اتنی لمبی مدت ڈاؤننگ سٹریٹ میں نہیں گزاری۔ البتہ کنزرویٹیو وزیراعظم جو ساڑھے گیارہ برس یہ گدی سنبھاے رہیں، سب پر بھاری رہی تھیں۔ان پر الزام لگا تھا کہ خود کو ملکہ سمجھنے لگی ہیں اور اصل ملکہ کو خاطر میں نہیں لاتیں۔

اسی طرح کی باتیں اب ٹونی بلیئر کی بابت بھی ہونے لگی ہیں اور انہیں کنگ ٹونی کا لقب دیا جارہاہے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ کوئی بات اپنی مرضی کے خلاف نہیں چاہتے ۔ ہر معاملے میں اپنا دخل ضروری سمجھتے ہیں۔

ادھربرطانیۂ عظمیٰ کی بادشاہت کے منتظر یعنی ولی عہد شہزادہ چارلس کی دوسری بار شادی کے اعلا ن نے پرانے زخموں کو پھر ہرا کردیا ہے۔

ملک کی آدھی آبادی جوان اور حسین اور عوام کے دلوں کی ملکہ شہزادی ڈائیانا کی موت سے پہلے ان کی طلاق کی ذمہ دار کمیلا پارکر بولز کو ٹھہراتی ہے جو اپریل کی آٹھ تاریخ کو شہزادے کی بیوی بننے والی ہیں۔ کمیلا جولائی میں اٹھاون سال کی ہو جائیں گی، چارلس بھی ان کے ہم عمر ہیں۔ دو عمر رسیدہ افراد کی اس شادی کے صرف ایک پہلو پر بحث ہورہی ہے کہ اگر چارلس ایک دن تخت نشین ہوجائیں گے تو وہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کیسے بنیں گے کیونکہ یہ دونوں اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کے درمیان اس زمانے میں جنسی تعلقات تھے جب وہ الگ الگ شادی شدہ تھے۔

ٹونی بلیئر کا ریکارڈ
 ٹونی بلیئر نے اس ہفتے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دو ہزار تین سو اڑتیس دن پورے کیے۔ اس سے پہلے کسی لیبر وزیراعظم نے اتنی لمبی مدت ڈاؤننگ سٹریٹ میں نہیں گزاری

ایک گناہ گار کیسے پاسبانِ ایمان کا منصب اختیار کرسکتا ہے۔ لیکن جہاں چرچ نے اپنے قاعدے قانون میں رد بدل کر کے ولی عہد کو یہ اجازت دے دی ہے کہ ایک طلاق شدہ عوت سے، جسکا شوہر ابھی زندہ ہے، شادی کر لے وہاں وقت آنے پریہ دشواری بھی دور کرلی جائے گی۔

اس پر یاد آیا کہ شہزادہ چارلس کی آمدنی کی بھی چھان بین بھی ہو رہی ہے۔ وہ آمدنی جو انہیں اپنی ذاتی جائیدادوں اور زمینوں سے ہوتی ہے۔ پچھلے سات سو سال میں کبھی کسی نے کارنوال اور لنکاسٹر کی ان شاہی جائیدادوں کو نہیں کریدا۔
میں نے کہا تھا نا کہ روایتیں ٹوٹ رہی ہیں۔

مسلمان اور بسنت
برصغیر کے مسلمان بسنت کیوں مناتے ہیں؟
شیرون مگر کیسا فلسطین؟
یہودی بستیوں کے خاتمے پر راشد اشرف کا جائزہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد