بسنت کا تہوار اور مسلمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تونے لگائی آ کے یہ کیا آگ اے بسنت جس سے کہ دل کی آگ اٹھی جاگ اے بسنت انشااللہ خاں انشا (1757-1818)کا یہ شعر بسنت کے تیوہار کی بہت خوبی سے عکاسی کرتا ہے۔ بہار کا موسم شروع ہوتا ہے تو بدن میں خون کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ وہ مادہ جس کو حکیم صفرا کہتے ہیں بڑھ جاتا ہے۔ طبیعت میں شفگتگی، امنگ، ولولہ اور خوشی پیدا ہوتی ہے۔ ہندوستان کےلوگ صدیوں سے اس موسم کو نیک شگون سمجھ کے پیلے پیلے کپڑے پہنے، ہاتھوں میں سرسوں کے پیلے پھولوں کے گجرے لیے ،گاتے بجاتے اپنے دیوی دیوتاؤں اور اوتاروں کے مندروں میں جاتے ہیں۔ مسلمانوں میں اس کا رواج کیسے شروع ہوا؟ اس بارے میں ایک قصہ سنئے: حضرت نظام الدین اولیا (پیدائیش 1238 وفات1335 ) کو ایک بار بہت شیدی صدمہ پہنچا۔ انہیں اپنے بھانجے مولانا تقی الدین نوح سے بہت محبت تھی اور ان کا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا۔ اس رنج کا حضرت نظام الدین اولیا پر ایسا اثر ہوا کہ چھ مہینے تک وہ کسی بات پر مسکرائے تک نہیں۔ تھوڑی دور ایک تالاب تھا، جہاں اب نظام الدین اولیا کی باؤلی ہے، سب اس کے کنارے پہنچے تو حضرت نظام الدین اولیا کو خیال آیا کہ امیر خسرو کہیں رہ گئے ہیں۔ انہیں لانے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔ لیکن جب وہ واپس نہیں آیا تو دوسرے کو بھیجا گیا اور جب وہ بھی واپس نہیں آیا تو تیسرے کو بھیجا گیا جس نے واپس آ کر بتایا کہ امیر خسرو کو ساتھ لانا مشکل ہے۔ اس پر نظام الدین اولیا خود ہی امیر خسرو کو لانے چل دیے، جب وہ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ امیر خسرو سرسوں کے کھیتوں میں کھڑے ہیں، اپنا صافہ انہوں نے کھول کے کندھوں پر ڈال رکھا ہے، کانوں اور بالوں میں سرسوں کے پھول لگائے ہوئے ہیں اور بلند آواز سے ایک مصرع پڑھ رہے ہیں: اشک ریز، آمدہ است ابر بہار امیر خسرو پرایک حال کی سی کیفیت ہے۔ اتنی اونچی آواز سے مصرع پڑھ رہے ہیں کہ ایک زمانہ گونجتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جن لوگ اس سے پہلے انہیں لانے کے لیے بھیجا گیا تھا وہ بھی ان کے ساتھ گانے میں شامل تھے۔ امیر خسرو نے دور سے حضرت نظام الدین اولیا کو آتے دیکھا توان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور شعر کا دوسرا مصرع پڑھا : اس پوری کیفیت کا حضرت نظام الدین اولیا پر گہرا اثر ہوا۔ ان کا دل بھی بھر آیا لیکن وہ امیر خسرو کو ساتھ لے کر تالاب کے کنارے آگئے۔ اس دن کے بعد سے حضرت نظام الدین اولیا کے دل پر اپنے بھانجے کی موت کا غم ہلکا ہونے لگا اورانہوں نے پھر سے زندگی میں دلچسپی لینی شروع کی۔ کہتے ہیں اسی وقت سے بسنت کا میلہ مسلمانوں نے بھی منانا شروع کیا۔ دہلی میں چاند رات کو ایک پہاڑی پر اللہ میاں کی بسنت چڑھائی جاتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||