عوامی چہرے کا نجی رخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگریزی کے ایک مشہور شاعر ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم کا شعر ہے: Private faces in public places یعنی نجی زندگی کے مقابلے میں انسان عوامی زندگی میں زیادہ ہوشیار، زیادہ شریف نظر آتا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ ڈیوڈ بلنکِٹ کوملک کے سب زیادہ دیانتدار سیاست دانوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن ان کی نجی زندگی نے ان پر چھاپہ مارا ہے اور اس کا ایک داغ انہیں دھونا پڑ رہا ہے۔ اگست کے مہینے میں ایک اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ ڈیوڈ بلنکِٹ کے جنسی تعلقات ایک شادی شدہ خاتون کمبرلی کوئن سے تھے جو تین سال تک قائم رہے۔اخبارات میں اس کا دو چار روز چرچا ہوا۔ بی بی سی نے فیصلہ کیا کہ چونکہ اس کہانی کا تعلق عوام کے نہ تو فائدے میں ہے نہ نقصان میں اس لۓ اسے نظر انداز کردینا مناسب ہوگا۔ ڈیوڈ بلنکِٹ چودہ سال پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میں اپنی نجی زندگی کے بارے میں کبھی کوئ بات نہیں کرنا چاہتا۔ پس پردہ ان کے اور کمبرلی کوئن کے درمیان رسہ کشی جاری رہی جس کا تعلق دو سال کے بچے سے ہے۔ ڈیوڈ بلنکِٹ کہتے ہیں کہ یہ بچہ میرا ہے اور انہوں نے عدالت سے یہ حکم حاصل کرلیا کہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جاۓ۔ ٹیسٹ ہوا اور معلوم ہوا کہ بچہ واقعی ڈیوڈ بلنکِٹ کا ہے۔ اس پس منظر میں سابق محبوبہ نے ان پر الزامات لگاۓ ہیں کہ وزیر داخلہ نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا تھااور دوسری کئ باتوں کے علاوہ فلپینو آیا کے مستقل قیام کی درخواست منظور کرانے میں اپنا اثر رسوخ استمال کیا تھا۔ وزیر داخلہ نے فوری طور پر انکوائری کرانے کی ہدایت کردی ہے اور لبرل حلقوں میں اطمینان نظر آرہا ہے کہ معاملات ٹھیک ہوگۓ ہیں ۔ دیانت اور صداقت کی فتح ہوگی ۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ سال میں تین چار ایسے واقعات منظر عام پر آتے ہیں جن میں عوامی چہروں کے نجی رنگ نظر آتے ہیں ۔ کچھ دن تک اخبارات میں چٹ پٹی خبریں چھپتی ہیں اور پھر کسی نۓ قصے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ کنہے کو عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ ان کے سیاست داں، سپورٹس ، ادب، فن، ٹیلیوژن کی نامور ہستیاں اپنی نجی زندگی میں عوامی نقاب اتار کر کیسی لگتی ہیں لیکن سچ یہ ہے اخلاق کے نجی معیار پر ہی عوامی چہروں کو پرکھا جاتا ہے اور ہر سکینڈل پبلک کے دلوں میں ایک نئی ترنگ، ایک نیا چسکا پیدا کردیتا ہے۔ لیکن پھر نۓ سرے سے تقاضا شروع ہوتا ہے کہ عوامی شحضیات کو دیانت اور صداقت کے اصول پر کاربند رہنا ضروری ہے۔ ڈیوڈ بلنکِٹ نے اپنی عوامی زندگی میں دیانت اور صداقت کو ثابت کرنے کے لۓ انکوائری کی ہدایت کردی ہے۔ لیکن ڈبلیو آیچ آڈن نے اپنی نظم میں جو بات کہی تھی وہ بھی اپنی جگہ غلط نہیں معلوم ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||