برطانوی لومڑیوں کا شکار ممنوع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات سال اور سات سو گھنٹوں کی بحث کے بعد بالآخر جمعرات کو برطانوی پارلیمنٹ نے سات سوسال پرانی ایک روش کا خاتمہ کردیا اور اس طرح ہر سال ستر اسی لومڑیوں کی جانیں بچانے کا انتظام کردیا گیا۔ لومڑیوں کا شکار سال میں چند مہینے ہوتا ہے لیکن اس کے لیے تیاریاں بڑے زور شور سے کی جاتی ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں شکاری کتوں کے تین سو اٹھارہ غول رجسٹرڈ ہیں۔ گھوڑے اور ان کے سائیس، گھڑسواروں کے لیے ہیٹ، سرخ رنگ کی جیکٹ، برجیس اور بوٹ، گھوڑوں کی زین اور لگام بنانے والے اور نعل بندی کرنے والے آٹھ ہزار افراد کی روزی روٹی لومڑیوں کے شکار پر چلتی ہے۔ شکار کے سیزن میں ہوٹلوں میں پندہ سولہ ہزار لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ اس سب کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر برطانیہ میں ایک بار پھر عوام اور اعلیٰ طبقے کے درمیان کشاکش کے لیے میدان تیار ہوگیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق اگلے برس فروری میں ہونے والا ہے یعنی عام انتخابات سے دو تین مہینے پہلے۔ شکار کے حامیوں کے جلوس نکلیں گے، سیاست دانوں پر انڈے پھینکے جائیں گے۔ شکار کے مخالفوں کے جلوس نکلیں گے، حامی سیاست دانوں پر انڈے پھینکے جائیں گے۔ دونوں طرف کے بنیاد پرستوں میں جھڑپیں ہونگی، گرفتاریاں ہونگی۔ تصویریں ٹیلیوژن پر دکھائی جائیں گی، اخباروں میں چھپیں گی۔ جمہوریت اپنا بھر پور مظاہرہ کرے گی۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی دارالعوام نے شکار کی ممانعت کا بل جمہوریت کے نام پر کیا ہے۔ ایوان کی اکثریت نے اس مسودۂ قانون کے حق میں بار بار ووٹ دیے لیکن بار بار ایوان بالا نے جس میں غیر منتخب ارکان بیٹھتے ہیں اسے مسترد کردیا۔ آخر میں دار العوام کو پارلیمنٹ ایکٹ کا سہارا لینا پڑا۔ پہلا پارلیمنٹ ایکٹ 1911 میں منظور ہوا تھا اور دار الامرا یعنی ہاؤس آف لارڈزکا یہ اختیار ختم کردیا گیا تھا کہ وہ دار العوام کے کسی بل کو ویٹو کرسکے لیکن اسے اجازت تھی کہ دو سال تک بل کوروک سکتا ہے۔ 1949 میں ترمیم کرکے یہ مدت گھٹا کے ایک سال کردی گئی۔ اسی ایکٹ سے کام لے کر یہ بل ایوان بالا کی منظوری کے بغیر پاس کیا گیا۔ پچھلے ترانوے سال میں اس ایکٹ سے صرف چھ بار کام لیا گیا ہے اور وہ بھی انتہائی اہم قومی معاملات میں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ لومڑیوں کے شکار کی ممانعت کے لیے پارلیمنٹ ایکٹ کا استعمال ایسا ہی ہے جیسے لندن کی کسی بڑی سڑک پر پانی کھڑا ہوجائے، ٹریفک رک جائے تو پورے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا جائے۔ چلتے چلتے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قانون کا اطلاق صرف شکار پر ہے۔ گاؤں دیہات کے لوگ اپنی مرغیوں کی دشمن لومڑیوں کو گولی ماردیں تو ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||