مذاہب کی اقوامِ متحدہ کیلیے اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے ربئیِ اعلٰی یونا مذگر نے ایک ایسا ادارہ تشکیل دینے کی ضروت پر زور دیا ہے جس میں تمام بڑے مذاہب کی نمائندگی ہو۔ ربئی اعلٰی نے یہ تـجویز سپین کے علاقے سویلی میں امن کیلیے آئما اور ربئیوں کی تین روزہ عالمی کانفرنس سے خطاب کے دوران پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مذہبی گروپوں کی اقوامِ متحدہ بنائی جانی چاہیے‘۔ غزہ کے امام، امام الفلوجی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاستداں جھوٹ بولتے ہیں لیکن مذہبی رہنماؤں کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں اور وہ اعلٰی تر خیر کیلیے کام کرتے ہیں‘۔ اتوار کو شروع ہونے والی یہ کانفرنس اس لیے منعقد کی جا رہی ہے کہ بحران کا شکار دنیا میں انصاف، امن اور احترام کی بحالی کیلیے آئیما اور ربئیوں کو سرگرم کیا جا سکے۔ کانفرنس کے مندوبین اس بات پر انتہائی واضح ہیں کہ ان کے سرگرم ہونے کی شدید ضرورت ہے۔ کانفرنس کے افتتاح پر ربئی مذگر نے کہا کہ مذہبی گروپوں کی اقوام متحدہ کی تجویز کا مقصد یہ ہے کہ اس ادارے کے ذریعے مذہب کے درمیان فاصلوں کو اسی طرح کم کیا جائے جیسے سیاسی سطح پر اقوام متحدہ کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں کی جانے والی تقاریر سیاسی کانفرنسوں کے بر خلاف زیادہ تیز اور تند تھیں اور جب ربئی مذگر نے اسامہ بن لادن کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہونے پر مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تو کانفرنس میں شریک آئیما اثبات میں سر ہلا رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلمان اور یہودی دونوں ایک دوسرے پر تنقید سننے کے لیے تیار ہو کر آئے ہیں۔ | اسی بارے میں سکھوں نےمسجد مسلمانوں کوواپس کردی28.03.2002 | صفحۂ اول تین مذاہب ایک یروشلم19.03.2002 | صفحۂ اول اسلام اور مغرب کے مابین کشیدگی26.12.2001 | صفحۂ اول انڈونیشیا مسلم دنیا کے لیے مثال: رائس15 March, 2006 | آس پاس اسلام دشمنی کی نئی لہر؟27.05.2003 | صفحۂ اول دنیا میں امن کی پکار19.01.2003 | صفحۂ اول ہریانہ: دلتوں کی تبدیلئ مذہب18.11.2002 | صفحۂ اول سیکولرزم بنیادی ستون: عبدالکلام25.07.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||