BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 March, 2006, 03:05 GMT 08:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا مسلم دنیا کے لیے مثال: رائس
رائس اپنے انڈونیشیائی ہم منصب کے ساتھ
انڈونیشیا کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے وہاں کے معاشرے میں ’اعتدال پسندی‘ کو مسلم دنیا کے لیے ایک مثال قرار دیا ہے۔ انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے۔

وزیر خارجہ رائس نے اعتراف کیا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مقبول نہیں رہی لیکن انہوں نے کہا کہ وہ تمام مذاہب کی قدر کرتی ہیں۔ رائس نے دہشت گردی کے خلاف انڈونیشیا کی جانب سے ملنے والی مدد کی تعریف کی۔

امریکی وزیر خارجہ نے انڈونیشیا کے صدر بیم بینگ یودھویونو کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے فوجی روابط پھر سے شروع کرنے اور برڈ فلو کے مسئلے کے بارے میں بھی بات چیت کی۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں رائس کے دو روزہ دورے کے خلاف سینکڑوں لوگوں نے مظاہرے کیے۔ امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کے سامنے جمے رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا کے سب سے مسلم ملک انڈونیشیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں ہے۔ جکارتہ میں اپنے انڈونیشیائی ہم منصب حسن ورایودا کے ساتھ بات کرتے ہوئے رائس نے کہا کہ جمہوری انڈونیشیا مسلم دنیا کے لیے ’مشعل راہ‘ ہے۔

وزیر خارجہ رائس نے کہا: ’میں سمجھتی ہوں کہ انڈونیشیا رواداری، اعتدال پسندی اور کثیرالمعاشرہ سماج کے مثال کے طور پر بہت بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔‘

انہوں نے بیرون ملک ہونے والی امریکہ کی تنقید میں نرمی لانے کی کوشش میں کہا کہ ’میرے خیال امریکہ کو دنیا میں بہت کچھ کرنا پڑا جو کہ بیشتر دنیا میں مقبول نہیں ہے۔‘ رائس نے مزید کہا: ’ہم ایک مشکل دشمن کے خلاف لڑرہے ہیں، ایک دشمن جسے یہاں انڈونیشیا میں، بالی میں، محسوس کیا گیا اور جکارتہ میں۔‘

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ حسن ورایودا نے کچھ معاملات پر دونوں ملکوں کے اختلافات کا اعتراف کیا لیکن صوبہ آچے میں امن کی بحالی میں امریکی امداد کا شکریہ اداد کیا۔

انڈونیشیا کے صدر بیم بینگ یودھویونو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے رائس کے ساتھ علاقے میں سکیورٹی کے معاملات، مشرق وسطیٰ میں تبدیلیاں اور مغرب اور اسلام کے درمیان تعلقات کے بارے میں بات چیت کی۔

اسی بارے میں
نیا صدر، نئی امیدیں
23 September, 2004 | آس پاس
رائس مشرق وسطی کے دورے پر
21 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد