ڈینش انخلاء پر انڈونیشیا کاافسوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا نے ڈنمارک کے شہریوں اور سفارتی عملے کے ملک چھوڑ کر جانے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انڈونیشیا کے وزیرخارجہ حسن وراجودہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے سفارت خانے اور عملے کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا ہے۔ انہوں نے ڈنمارک کی حکومت کے سفارتی عملے کو کارٹون تنازعے پرممکنہ حملوں کے پیش نظر انڈونشیا سے چلے جانے کے فیصلے کو جلد بازی پر مبنی قرار دیا۔ اس سے قبل ڈنمارک نے انڈونیشیا میں موجود اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ انڈونیشیا چھوڑ کر چلے جائیں کیوں کہ کارٹون تنازعے کی وجہ سے شدت پسند عناصر کی جانب سے ان پر حملوں کے امکانات ہیں۔ ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انٹیلیجنس رپورٹوں سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ انڈونیشیا میں ایک شدت پسند تنظیم ڈنمارک کے شہریوں اور ٹھکانوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ڈنمارک کے شہریوں پرممکنہ حملوں کے خطرے کی کوئی اطلاع موجود نہیں ہے۔ جمعہ کو ڈنمارک نے شام سے اپنے سفیر اور سفارت خانے کے عملے کو واپس بلالیا تھا کیوں کہ ’شام کی حکومت ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔‘ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ڈنمارک کے سفیر اور ان کے عملے کی عدم موجودگی کے دوران سفارتی امور جرمنی کے سفارتخانے اور ڈنمارک کے عمان میں موجود سفارتخانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ ڈنمارک اور ناروے نے شام کی حکومت پر ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کے باعث تنقید کی اور ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو شام سے واپسی کا مشورہ دیا۔ امریکہ نے بھی شام پر تنقید کی ہے اور سفارت خانوں پر حملوں کو نا قابل برداشت قرار دیا ہے۔ |
اسی بارے میں فرانسیسی اخباروں پر عدالتی کارروائی11 February, 2006 | آس پاس ڈنمارک کے اخبار کا مدیر چھٹی پر10 February, 2006 | آس پاس ’اسلام، مغرب میں خلیج بڑھی ہے‘10 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||