BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 13:47 GMT 18:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس کی حسنی مبارک سے ملاقات
کونڈولیزا رائس
کونڈولیزا رائس حماس کے بارے میں امریکہ کی سخت پالیسی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے مشرق وسطیٰ کے پانچ روزہ دورے کے دوران مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملنے والی ہیں۔

توقع کی جا رہی تھی کہ ان کی ملاقات میں عراق کی موجودہ صورتحال اور ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی تشویش پر بات ہو گی۔

کونڈولیزا رائس نے منگل کو مصر پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں ایسی حکومت کی حمایت نہ کرے جس کی قیادت حماس کر رہی ہو کیونکہ امریکہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

تاہم مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’حماس کو صورت حال سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وقت دیا جانا چاہیے‘۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی غیر متوقع کامیابی کے بعد خطے میں امریکی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

حماس کے متعلق ان کے تاثرات عین اس وقت سامنے آئے ہیں جب فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کو حکومت بنانے کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ صدر محمود عباس نے حماس سے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے وجود کا حق تسلیم کرے لیکن حماس نے کسی قسم کی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

حماس کے حکومت میں آنے کی صورت میں امریکہ نے امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس بارے اپنے مصری ہم منصب سے بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم یہ نہیں کر سکتے کہ ہمارا ایک پاؤں دہشت گردی میں ہو اور دوسرا سیاست میں‘۔

مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حماس کے انتخابات جیتنے کی وجہ سے امداد بند کرنا جلد بازی ہو گا۔ ان کے اس بیان سے بش انتظامیہ کی حماس کے خلاف ایک متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کو نقصان پہنچا ہے۔

مصر جو کہ امریکہ سے سالانہ دو ارب ڈالر امداد لیتا ہے خطے میں ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کو نیوز کانفرنس کے دوران سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جب ایک صحافی نے امریکہ کی عراق میں جنگ کے بارے میں پوچھا کہ ’کیا یہ تشدد کی جمہوریت اور انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟‘

دیگر صحافیوں نے امریکہ کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا امریکہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کو بالکل نظر انداز نہیں کرتا۔

کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ’ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہر جگہ امریکی طرز کی جمہوریت ہی ہو۔ امریکہ جمہوریت امریکہ کے لوگوں کے لیے ہے۔‘

واشنگٹن واپسی سے پہلے امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گی۔

اسی بارے میں
حماس کی فلسطینی فوج کی تجویز
29 January, 2006 | صفحۂ اول
بلیک میل نہیں ہوں گے: حماس
28 January, 2006 | صفحۂ اول
بُش کی حماس کو تنبیہ
28 January, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد