پولیس کا شک جمیعتہ اسلامیہ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی انسداد دہشت گردی پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے تصدیق کر دی ہے کہ بالی میں ہونے والے بم دھماکے خود کش حملہ آوروں نے کیے ہیں۔ سنیچر کوانڈونیشیا کے تفریحی جزیرے بالی میں تین دھماکوں میں انیس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے سترہ کی حالت نازک ہے۔ زخمی ہونے والوں میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ میجر جنرل انسیاد بائی نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کے جسم کے اعضاء جائے حادثہ پر ملے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تین حملہ آور دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ پہن کر جمبارن کے دو جبکہ کوتا کے ایک ریستوران میں گئے اور اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ میجر انسیاد نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’میں نے انہیں دیکھا ہے ان کے صرف سر اور پیر باقی بچے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شک ہے کہ یہ دھماکے جمیعتہ اسلامیہ نے کیے ہیں۔ جمیعتہ اسلامیہ پر بالی میں تین سال قبل ہونے والے دھماکوں کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔ ان دھماکوں میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اسّی آسٹریلوی باشندے تھے۔ تھا۔کہا جاتا ہے کہ جمیعتہ اسلامیہ پر القاعدہ کے ساتھ تعلق ہیں۔ جنرل بائی نے بتایا کہ ان دھماکوں کے منصوبہ ساز دو ملائیشیائی باشندے ہیں۔ اظہری بن حسن اور نورالدین محمد توپ سنہ 2002 میں ہونے والے حملوں کے بعد سے انڈونیشیا کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ان دھماکوں کا طریقہ کار پہلے ہونے والے دھماکوں سے ملتا جلتا ہے اور جائے حادثہ سے بیک پیک بھی ملے ہیں‘۔ انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بیم بانگ یودھویونا نے ان دھماکوں کو دہشت گردی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||